پنجاب کی سیاست میں گھمسان کا رن ، جواب الجواب کا سلسلہ جاری

گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے اسپیکر سردار سبطین خان کی رولنگ کو خلاف آئین قرار دے ہے جبکہ دو روز قبل اسپیکر  پنجاب اسمبلی نے گورنر پنجاب کی رولنگ کو غیرآئینی قرار دیا تھا۔

گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے اسپیکر کی پرسوں کی رولنگ کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔ اسپیکر سردار سبطین خان نے 20 دسمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب سے اعتماد کا ووٹ لینے کی گورنر پنجاب کی ہدایت کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے اجلاس جمعے کے روز تک ملتوی کردیا تھا۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے اپنے ہولڈ کو مزید مضبوط کرنے کے لیے چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کو فوری طور پر تبدیل کردیا ہے۔

پنجاب میں گھمسان کا رن پڑنے جارہا ہے ، جواب الجواب کا سلسلہ جاری ہے ، گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے اسپیکر سبطین خان کی رولنگ کے جواب میں 3 صفحات پر مشتمل جواب جاری کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

پی ڈی ایم والوں کو بلدیاتی انتخابات سے فرار نہیں ہونے دیں، جماعت اسلامی

ایک طرف اعتماد اور عدم اعتماد کا معاملہ: دوسری جانب فوری پنجاب اسمبلی کی تحلیل کی گونج

گورنر پنجاب کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا کہ آپ کی رولنگ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، آپ نے آئین کے تحت حلف اٹھایا ہے آپ اس سے انحراف نہیں کرسکتے ، مجھے آپ کی 20 دسمبر کی جاری کردہ رولنگ آج صبح ملی، اس رولنگ کے مطابق معلوم ہوا کہ آپ آئین کے آرٹیکل 130 (7) کے تحت دئیے گئے حکمنامہ کے تحت اجلاس نہیں بلانا چاہتے۔

Notification

Notification

Notification

Notification

گورنر پنجاب نے اپنی رولنگ میں کہا ہے کہ "آپ نے اپنی رولنگ میں قرار دیا کہ جاری اجلاس کے دوران میں بطور گورنر نیا اجلاس طلب نہیں کر سکتا، آپ نے لاہور ہائیکورٹ کے منظور وٹو کیس کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ اعتماد کے ووٹ کے لئے وزیراعلیٰ کو کم از کم 10 دن کا وقت دیا جانا ضروری ہے، آئین کے مطابق آپ کے طلب کردہ اجلاس کو آپ ہی برخاست کر سکتے ہیں، اس کے تناظر میں آئین کے آرٹیکل 130 (7) کے تحت اجلاس طلب کرنے کے لئے ضروری تھا کہ آپ 21 دسمبر کو سہ پہر 4 بجے سے پہلے کسی وقت اجلاس برخاست کرتے، اس کے بعد میں نیا اجلاس طلب کرتا، اس کے متبادل کے طور پر اسمبلی کے 41ویں سیشن کا اجلاس طلب کیا جا سکتا ہے، آپ کے ہی بقول 41واں اجلاس میں نے طلب کیا تھا اور میں نے اسے ابھی تک برخاست نہیں کیا ہے۔

رولنگ میں مزید کہا گیا ہے کہ "آئین کہیں بھی آرٹیکل 130 (7) کے تحت اجلاس طلب کرنے سے منع نہیں کرتا، آپ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کا یہاں حوالہ دینا بھی درست نہیں، موجودہ حالات میں وزیراعلیٰ مکمل فعال ہیں، انہیں منظور وٹو کیس کی طرح معطل نہیں کیا گیا ہے جو ایک سال سے اپنے دفتر سے باہر تھے، اس لیے ایسا کچھ نہیں ہے جو مجھے وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے سے منع کرے۔

بلیغ الرحمان نے اپنی رولنگ میں لکھا ہے کہ "آئین میں تحریک عدم اعتماد کے لئے 3 سے 7 دن کا وقت دیا گیا ہے، اعتماد کے ووٹ کے لئے آئین میں کسی وقت کا تعین نہیں کیا گیا ہے، آئین بنانے والوں نے اعتماد کے ووٹ کے لئے آرٹیکل 130 (7) میں کسی وقت کا تعین نہیں کیا۔”

گورنر پنجاب نے اپنی رولنگ میں لکھا ہے کہ "منظور وٹو کیس میں گورنر راج لگنے کی وجہ سے وہ معطل تھے اس لئے انہیں عدالت نے 10 دن کا وقت دیا تھا، آپ کی رولنگ پنجاب اسمبلی کے رولز 209 آف رولز آف پروسیجر کی خلاف ورزی ہے، رولنگ صرف پوائنٹ آف آرڈر پر دی جا سکتی ہے جبکہ 20 دسمبر کو اجلاس کے دوران کوئی پوائنٹ آف آرڈر نہیں اٹھایا گیا تھا۔آپ نے یہ رولنگ اپنے چیمبر میں دی جو رولز 209 (1) کی خلاف ورزی ہے۔”

گورنر پنجاب نے مزید کہا ہے کہ "کسٹودین آف دی ہاؤس اور آئینی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے آپ کی غیرجانبداری ہونی چاہیئے ورنہ وہ آئین کی خلاف ورزی ہو گی، میں آپ کی توجہ اس جانب دلانا چاہتا ہوں کہ اسمبلی کا اجلاس جاری ہو تو بھی آئین کے آرٹیکل 130 (7) پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا ، یعنی گورنر اجلاس پر اجلاس طلب کر سکتا ہے، آپ کی رولنگ کی وجہ سے وزیراعلیٰ اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکے، آپ کی مدد سے وزیراعلیٰ ایک آئینی عمل کے تحت اپنے فرائض مکمل سرانجام نہیں دے سکے، آپ نے آئین کے تحت حلف اٹھایا ہے، آپ کی رولنگ کا 19 دسمبر کے حکمنامہ پر کوئی اثر نہیں۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی سردار سبطین خان کی رولنگ

منگل کے روز اسپیکر پنجاب اسمبلی سردار سبطین خان نے کہا تھا کہ چلتے سیشن کے دوران گورنر کی جانب سے ووٹ آف کنفیڈنس کا مطالبہ میں سمجھتا ہوں غیر آئینی ہے۔

Notification

Notification

اسپیکر پنجاب اسمبلی سردار سبطین خان نے گورنر بلیغ الرحمان کے حکم کے خلاف رولنگ جاری کرتے ہوئے اجلاس جمعے تک کے لیے ملتوی کردیا تھا۔

اراکین اسمبلی کی ریکوزیشن پر اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی جانب سے جاری کردہ رولنگ میں کہا گیا تھا کہ اسپیکر کا طلب کردہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس پہلے سے جاری ہے، 23 اکتوبر سے جاری اجلاس کو آئین کے مطابق صرف اسپیکر ہی برخاست کر سکتا ہے۔

آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری پنجاب تبدیل

وفاقی حکومت نے گذشتہ روز دو حکم نامے جاری کرتے ہوئے چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کو فوری طور پر تبدیل کردیا ہے۔

کامران علی افضل کی جگہ پر عبداللہ سنبل کو چیف سیکریٹری پنجاب تعینات کردیا ہے ، جس کا نوٹی فیکیشن بھی جاری کردیا ہے۔ کامران علی افضل کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔

Notification

دوسری جانب آئی جی پنجاب فیصل شاہکار کی سروسز پنجاب سے واپس لے لی گئی ہیں اور ان کی جگہ پر عامر ذوالفقار کو نیا آئی جی پنجاب تعینات کردیا ہے ، جس کا نوٹی فیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

Notification

متعلقہ تحاریر