عمران خان اور پرویز الہیٰ کا مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں بڑا سرپرائز
چیئرمین تحریک انصاف نے بہترین حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے چوہدری پرویز الہیٰ کو پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ دلوا دیا ، وفاقی وزراء اور آصف علی زرداری کی تمام کاوشیں ناکام۔
سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کامیاب حکمت عملی سے چوہدری پرویز الہیٰ کو پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ دلوا دیا ، پرویز الہیٰ اسمبلی کے 186 ارکان کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ جبکہ اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔ اسپیکر سبطین خان نے اُنہیں اعتماد کا ووٹ لینے پر مبارکباد پیش کی۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے اجلاس گیارہ جنوری 2023 کو ہوا اور 12 جنوری کو وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی اعتماد کا ووٹ حاصل کر کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہے۔
یہ بھی پڑھیے
ریڈلائن صرف عوام لگا سکتے ہیں کوئی اور نہیں لگا سکتا، عمران خان کا مقتدر حلقوں کو پیغام
پنجاب اسمبلی کے اسپیکر سبطین خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی کامیابی کا اعلان کیا، ایوان میں موجود 186 حکومتی مبمران نے انہیں اعتماد کا ووٹ دیا۔
چوہدری پرویز الہیٰ کی کامیابی کا اعلان اسمبلی رولز کی کارروائی مکمل ہونے پر کیا گیا، اراکین پنجاب اسمبلی نے ان کی کامیابی پر ڈیسک بجائے جبکہ مہمانوں کی گیلری میں موجود پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے خوشی سے نعرے بازی کی۔
پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے کی تاخیر سے اسپیکر سبطین خان کی صدارت میں شروع ہوا ، اجلاس کے آغاز پر ہی اپوزیشن کی جانب سے احتجاج اور نعرے بازی شروع کردی گئی۔
اجلاس میں محکمہ لائیو اسٹاک کے سوالات کے جوابات دیئے جانے تھے ، تاہم نکتہ اعتراض پر مخدوم عثمان مخدوم نے کہا کہ اپوزیشن اکثریت میں ہو اور حکومت اقلیت میں ہو تو سوالات جوابات کا مزا نہیں آتا۔ حکومت سے کہیں گے پہلے اعتماد کا ووٹ لیں اس کے بعد کارروائی آگے بڑھے گی۔ جواب میں اسپیکر سبطین خان نے کہا کہ آج عدلیہ کی تاریخ ہے حکومت کہیں نہیں جائے گی حکومت اعتماد کا ووٹ لے لے گی ، حکومت اعتماد کا ووٹ لے گی تو ہی چلے گی آپ وہم نہ کریں فی الحال وزیر اعلیٰ بھی موجود ہیں اور کابینہ بھی ہے تو کام ٹھیک چل رہا ہے اس دوران اپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی کا سلسلہ جاری رہا جبکہ اپوزیشن اراکین ڈائس کے سامنے آگئے۔
صوبائی وزیر سردار شہاب الدین کا کہنا تھا کہ اپوزیشن والے قوم کا پیسہ ضائع کرنے آتے ہیں ان کو قوم کے پیسے سے کوئی سروکار نہیں ہے اپوزیشن کے اراکین کو معطل کر دیں یہ اپنے مانیٹرز کے کہنے پر ہنگامہ کرتے ہیں ان کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
اسپیکر سبطین خان بار بار کہتے رہے کہ اپوزیشن اپنی نشستوں پر تشریف رکھے آپ کی سینئر قیادت کو پتا چل گیا ہے آپ کے احتجاج کا۔ کاغذوں پر اللہ نبی کا نام ہوتا ہے اسمبلی اسٹاف کاغذات کو اٹھائے۔
اس موقع پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین اسمبلی اسپیکر کی ڈائس کے سامنے کھڑے ہو گئے اور ایک دوسرے خلاف نعرے بازی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسی دوران طاہر خلیل سندھو حکومتی اراکین کے سامنے گھڑی لہراتے رہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ طاہر خلیل سندھو خواجہ سلمان رفیق اپنے اراکین کو پیچھے ہٹائیں۔ حکومت کی جانب سے ایوان میں مریم کے پاپا چور ہیں کے نعرے بھی لگائے جاتے رہے۔
اسپیکر سبطین خان کا کہناتھاکہ میں آٹھویں دفعہ کہہ رہا ہوں اپنی نشستوں پر تشریف رکھیں ورنہ مجھے رولز کے مطابق کارروائی کرنی پڑے گی ، تاہم اپوزیشن نے اسپیکر کی دھمکی کو نظرانداز کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے بازی کا سلسلہ جاری رکھا۔
اسپیکر کی ہدایت پر حکومتی اراکین اپنی اپنی نشستوں پر واپس چلے گئے ، جبکہ اپوزیشن اراکین اعتماد کا ووٹ لو کے نعرے لگائے رہے۔
اسی دوران وزیر پارلیمانی امور راجہ بشارت اور مرزا جاوید اپوزیشن کو منانے کی کوشش کرتے رہے۔
سوال کی باری پر راحیلہ خادم حسین نے وقفہ سوالات میں بات کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ گورنر وزیراعلیٰ پر عدم اعتماد کر چکے گزارش ہے کہ پہلے وزیر اعلیٰ اعتماد کا ووٹ لیں، اسپیکر کا کہنا تھاکہ حکومت نے اعتماد کا ووٹ لینا ہے ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے دیں، اگر اعتماد کا ووٹ نہیں لیں گے تو حکومت میں نہیں رہیں گے، اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک لے آئیں فیصلہ ہوجائے گا۔
لیگی رکن ارشد ملک کا کہناتھاکہ صوبے کی بد قسمتی ہے کہ اسپیکر آئینی سربراہ کا حکم نہیں مان رہا۔ میں کس کابینہ سے سوال کروں جس کو عدلیہ نے معطل کیا ہوا ہے آپ کس حیثیت سے بیٹھے ہوئے ہیں۔
لیگی رکن منیب الحق کا کہنا تھا کہ یہ جعلی حکومت ہے وزیر اعلیٰ پنجاب اعتماد کا ووٹ کیوں نہیں لے رہے یہ ساری کارروائی جعلی ہے اعتماد کا ووٹ لیا جائے کیا آئین نہیں کہتا کے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہنا قانونی حق ہے آپ کے پاس نمبر پورے نہیں ہیں ۔
لیگی رکن طاہر پرویز کا کہنا تھاکہ جو وزیر اعلیٰ اعتماد کھو دے اسے ہم نہیں مانتے۔ اسپیکر کا کہنا تھاکہ ہائیکورٹ میں کیس چل رہا ہے توہین عدالت نہ کریں تین دن سے عدالت میں کیس چل رہا ہے توہین عدالت نہ کریں۔
اپوزیشن ارکان کا ایوان میں شور شرابہ مسلسل جاری رہا اس دوران اسپیکر سبطین خان نے پنجاب اسمبلی میں سیکورٹی کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی۔ پنجاب اسمبلی کے طبی عملے کو بھی الرٹ رہنے کی ہدایت کردی گئی۔
بحث میں فیاص چوہان سمیت دیگر نے بھی حصہ لیا۔ اجلاس میں ایک بار پھر آدھ گھنٹے کا وقفہ کردیا گیا۔
پنجاب اسمبلی کا اجلاس رات گیارہ بج کر 56 منٹ پر ڈپٹی سپیکر پنجاب واثق عباسی نے اجلاس اگلے دن 12 جنوری 2023 رات 12 بج کر 5 منٹ تک ملتوی کردیا۔ اجلاس کا تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔
اجلاس میں سنیئر صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے اعتماد کے ووٹ کی تحریک پیش کی جس پر اپوزیشن نے احتجاج کرنا شروع کردیا اور اسپیکر کے ڈائس کا گھڑاو کیا ، شدید نعرے بازی شروع کردی۔ اپوزیشن نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ایوان کا بائیکاٹ کردیا۔
ایوان میں وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے اعتماد کے ووٹ کا سلسلہ شروع ہوا اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو 186 اراکین کی حمایت حاصل ہوئی ، اس طرح اسپیکر پنجاب اسمبلی نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو برقرار رکھا۔
اراکین اسمبلی کی جانب سے قائد ایوان چوہدری پرویز الہٰی کو مبارکباد پیش کی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز نے کہا کہ ن لیگ والے ایک مہینے سے اعتماد کے ووٹ کا رولا ڈال رہے رہے تھے اب ہم نے اعتماد کا ووٹ لے لیا ہے ، صوبہ پنجاب کو مثالی صوبہ بنائے گئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے اسمبلی ملازمین کو ایک بونس دینے کا بھی اعلان کیا۔









