شیخ روحیل اصغر دھوتی کا معاملہ پی اے سی میں لے آئے، چیئرمین کا سخت ایکشن
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے اسلام آباد کلب کی انتظامیہ کو طلب کرکے کھری کھری سنا دیں۔
رکن قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھوتی پہن کر اسلام آباد کلب جاؤں تو عملہ امتیازی سلوک کرتا ہے، دھوتی پہننے پر عزت اور سروس نہیں دی جاتی۔
دھوتی اور کُرتے کے شوقین رکن قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر کو اسلام آباد کلب میں امتیازی سلوک کا شکوہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ اسلام آباد کلب میں دھوتی اور کُرتا پہن کر جاتے ہیں جو عملہ انہیں تنگ کرتا ہے، عزت اور احترام نہیں کرتا اور اگر وہ کوئی آرڈر دیں تو انہیں سروس بھی نہیں دی جاتی۔ اسلام آباد کلب کی بعض جگہوں پر ان کے داخلے پر پابندی عائد کردی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان اور فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری معطل کردیئے گئے
پارلیمنٹ کے احاطے میں غیر مجاز یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز کے داخلے پر پابندی عائد
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں کیا۔ جس کے بعد چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے اس امتیازی رویے کا نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد کلب کی انتظامیہ کو اجلاس میں پیش ہونے کا حکم دیا۔
نور عالم خان نے جب اسلام آباد کلب انتظامیہ سے پوچھ گچھ کی تو انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد کلب کوئی کلچر کلب نہیں ہے اور اس کا ڈریس کوڈ ہے۔ کلب کے بعض ہالز اور میس ایسے ہیں جہاں دھوتی کی اجازت نہیں دی جاتی۔
اس پر نور عالم خان طیش میں آگئے اور اسلام آباد انتظامیہ پر برس پڑے۔
ان کا کہنا تھاکہ اسلام آباد کلب کے لیے 352 ایکڑ زمین پاکستانی عوام کی ہے اور یہ اسلام آباد کلب کو مفت دی گئی ہے۔ یہاں پاکستانی کلچر کے ڈریس کوڈ پر پابندی قابل قبول نہیں۔ بلوچ اپنی پگڑی، پختون اپنی پگڑی اور سندھی اپنی اجرک پہن کر جائیں گے۔ یہ انگریزوں کا لباس اگر اپنانا ہے اور پابندی کرانی ہے تو بیوروکریٹس اپنے کلب کے لیے الگ زمین اپنی جیب سے لے لیں۔
انہوں نے پگڑی، سندھی ٹوپی، دھوتی اور کُرتا شلوار کو ڈریس کوڈ میں شامل کرنے کا حکم دیا اور ساتھ یہ اسلام آباد کلب کا آڈٹ اور نقصانات کی وجوہات اور عملے کی تنخواہوں سے متعلق تفصیلات 2 ہفتوں میں طلب کرلیں۔









