وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کو بینک کرپٹ قرار دے دیا

شہباز شریف کا کہنا ہے ترقی کے لئے استعداد کار کو بڑھانا ہوگا ماڈرن ٹیکنالوجی سے مدد لینا ہوگی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کو بینک کرپٹ قرار دے دیا ، کہتے ہیں آج تیل اور گیس خریدنے کےلیے پیسے نہیں ہیں ، میثاق معیشت وقت کی اہم ضرورت ہے، ریاست کو صوبوں سے مل کر جامع منصوبہ بنانا ہوگا، سب کو ملکی ترقی کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا اسلام آباد میں پری بجٹ بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سیاسی اور معاشی استحکام آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئیے ہم سب  میثاق معیشت پر دستخط کریں اور پھر قیامت تک کوئی اسے تبدیل نہ کر سکے بلکہ اسے بہتر بناتی رہے۔

یہ بھی پڑھیے

منی لانڈرنگ کیس، سلمان شہباز اور مقصود ملک کے وارنٹ جاری

نور عالم خان نے نیب کے کھاتے چیک کرنے کا عندیہ دے دیا

شہباز شریف نے کہا کہ بنگلہ دیش کی مثال ہمارے سامنے ہے،جہاں کپڑے کی صنعت آگے بڑھ رہی ہے حالانکہ بنگلہ دیش کپاس پیدا نہیں کرتا۔پاکستان ان کا کپاس پیدا کرتا ہے اور دو ہزار بارہ سے 2014میں ہم نے 14 ملین بیلز کپاس پیدا کی تھی جو ایک ریکارڈ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی کے لئے استعداد کار میں اضافہ اور ماڈرن ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے ورنہ قیامت تک ہماری حالت نہیں بدلے گی۔

انہوں نے کہا کہ پالیسی کے تسلسل کے لیے میثاق معیشت  ضروری ہے، سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آسکتا۔

ان کا کہنا تھاکہ موجودہ حکومت کی مدت ایک سال تین ماہ رہ گئی ہے اس عرصے میں لانگ ٹرم کام نہیں ہو سکتے،لیکن حکومت مڈ ٹرم اور شارٹ ٹرم کام ضرور کرکے جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے دیہی علاقوں کو ترقی دینا ہوگی، پاکستان ساڑھے 4 ارب ڈالر کا پام آئل برآمد کر رہا ہے، زرعی شعبہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے،  جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے زرعی پیداوار بڑھائی جاسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 90 کی دہائی میں پاکستانی روپےکی قدر بھارتی کرنسی سے بہتر تھی، ماضی میں بھارت نے ہمارے منصوبوں کی تقلیدکی۔

انہوں نےکہا کہ ہرقدم پر حکومت کو تاجروں کی تجاویز اور آراء کی ضرورت ہوگی،حکومت دی گئی اچھی تجاویز پر عمل کرے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ اگر ہم نے بطور قوم یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ہم نے منصوبہ بندی سے دن رات کام کرنا ہے، تو پھر جس طرح ہم نے بہتر سال ضائع کر دیے خدانخواستہ پانچ سو سال اور ضائع ہوجائیں گے۔

متعلقہ تحاریر