اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں باران رحمت، گرمی کا زور ٹوٹ گیا
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے رواں برس مون سون کی بارشیں معمول سے زیادہ ہونے کا قوی امکان سے جس سے ڈیموں میں پانی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں باران رحمت کا سلسلہ جاری رہا۔موسلادھار بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا اور خشک سالی کا بھی خاتمہ ہوگیا۔پری مون سون بارش سے خطرناک حد تک کم ہوتے آبی ذخائر میں بھی بہتری آئے گی۔ارسا حکام کے مطابق تربیلا سمیت ملک کے مختلف ڈیموں میں گزشتہ برس جون میں گنجائش کا 25 فیصد پانی موجود تھا مگر رواں برس ڈیموں میں گنجائش کا صرف ایک فیصد سے بھی کم پانی دستیاب ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان میں پری مون سون موسم کا آغاز ہو چکا ہے اور اس دوران معمول سے زائد بارشوں کی پیش گوئی کی جارہی ہے۔اس دوران بارشوں سے راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں ذیابیطس کے مرض میں خوفناک حد تک اضافہ
وفاقی دارالحکومت اسلام اور راولپنڈی میں ہفتہ کی صبح تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش کا سلسلہ شروع ہوا جو کئی گھنے تک جاری رہا۔جس سے گرمی کا خاتمہ ہوگیا اور شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔
موسلادھار بارش سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں 44ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
ملک کے بیشترعلاقوں میں بادل کھل کر برس پڑے، بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا، محکمہ موسمیات نے آج بھی بارش کی پیش گوئی کر دی۔
لاہور میں بھی بادل کھل کر برسے، لاہور ایئرپورٹ کے علاقے میں 107 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں بھی ہلکی بارش ہوئی ، آئی آئی چندریگر روڈ، صدر، گارڈن اور صدر اولڈ سٹی ایریا میں ہلکی بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق آج کراچی میں مزید بارش کا امکان ہے۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی گزشتہ شام سے آج صبح تک بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ ضلع کوہلو میں موسلا دھار بارش ہوئی اور کوہلو کی تحصیل ماوند اور گردونواح کے پہاڑی علاقوں میں بارشوں سے ندی نالوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی جبکہ صحرائے چولستان میں بھی بادل برسے، چولستان میں خشک سالی کے بعد یہ پہلی بارش ہے۔اس علاؤہ میں گرمی اور خشک سالی کی وجہ سے شدید گرمی کی وجہ سے بڑی تعداد میں مال مویشی کررہے تھے اور علاقے کے باشندوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا تھا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت بلتستان میں شدید بارشوں کے سبب سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے،اس حوالے سے این ڈی ایم اے نے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقوں بھمبر، کوٹلی، میر پور، پونچھ، باغ، حویلی، ہٹیاں، مظفر آباد، نیلم ویلی میں 15 جون کے بعد بارشوں کی توقع ہے۔ملک کے مختلف علاقوں میں پری مون سون بارشوں کا موسم 23 جون تک جاری رہے گا، جس سے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خطرات بھی موجود ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کا آغاز جون کے آخری ہفتے میں متوقع ہے جس میں بھی وسطی پنجاب، جنوبی سندھ میں اوسط سے زیادہ زیادہ جب کہ ملک بھر میں اوسط سے 30فیصد زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ارسا حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ان دنوں میں تربیلا سمیت دیگر ڈیموں میں گنجائش کا 25 فیصد پانی موجود تھا مگر اس سال اس وقت ڈیموں میں یہ پانی اپنی گنجائش کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
ارسا کے مطابق 16جون کو ہمارے ڈیموں میں مجموعی پانی 0.088 تھا جبکہ 15 جون کو 0.089 تھا۔ اس کی بڑی وجہ گلگت بلتستان میں موسم کا اتار چڑھاؤ ہے۔ وہاں پر روزانہ موسم بہت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے جس وجہ سے گلیئشیر کے پگھلنے پر اثرات پڑ رہے ہیں۔
گزشتہ سال ان ہی دنوں میں تربیلا ڈیم میں ایک لاکھ اسی ہزار کیوسک پانی داخل ہو رہا تھا اس وقت 91 ہزار کیوسک پانی داخل ہو رہا ہے۔
دریائے کابل میں گزشتہ سال ان ہی دنوں میں 70 ہزار کیوسک پانی داخل ہو رہا تھا جبکہ ان دنوں میں 17 ہزار کیوسک پانی داخل ہو رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون بارشوں کے پہلے سیزن کے دوران توقع ہے کہ 15 اگست تک منگلا اور تربیلا ڈیم پانی سے بھر جائیں گے۔









