پنجاب میں ن لیگ کی حکومت کے ساتھ ساتھ اسٹاک مارکیٹ اور روپیہ بھی بیٹھ گیا

پنجاب کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کی شکست کے اگلے ہی روز اسٹاک مارکیٹ بیٹھ گئی جبکہ ڈالر نے روپے کے پرخچے اڑا کر رکھ دیئے ہیں۔

پنجاب میں جیسے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد حمزہ شہباز شریف کی حکومت بیٹھ گئی ٹھیک اس طرح سے حصص کی مارکیٹ (اسٹاک ایکسچینج) اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ بیٹھ گیا ہے۔

کاروباری ہفتے کے پہلے روز اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان رہا اور 100 انڈیکس 707 پوائنٹس کمی کے ساتھ 41 ہزار 367 پوائنٹس پر بند ہوئی۔ اس طرح ہفتے کے پہلے روز سرمایہ کاروں کے 98 ارب 58 کروڑ روپے ڈوب گئے۔

یہ بھی پڑھیے

ریکوڈک ذخائر، پاکستان اور بیرک کے مابین طویل المدتی معاہدہ طے پاگیا

پاکستان ان ایک درجن ریاستوں میں شامل ہے جو ڈیفالٹ کرسکتی ہے، رائٹرز

اسٹاک مارکیٹ کی پوزیشن

متحدہ جماعتوں کے لگ بھگ 3 ماہ کے دور حکومت میں اسٹاک مارکیٹ کے سرمایاکاروں  کے 765 ارب روپے ڈوب گئے

مارکیٹ  کے انڈیکس نے شہباز حکومت کے دوران انویسٹرز کو 10 فیصد کا خسارہ دکھایا گیا ہے۔

شہباز شریف حکومت سے قبل حصص کی مالیت جو 7 ہزار 710 ارب روپے تھی وہ  شیئر کی قیمتیں گرنے سے  6 ہزار 945 ارب روپے رہ گئی ہے۔

100 انڈیکس شہباز حکومت کے دوران 4 ہزار 777 پوائنٹس  گنوا بیٹھا ہے ، جبکہ مارکیٹ کا انڈیکس 46 ہزار 144 کے لیول سے کم ہوکر 41 ہزار 367 کی سطح پر آگیا

حصص کی مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق اس عرصے میں بیرونی سرمایہ کاروں نے بھی مارکیٹ سے 1 کروڑ 43 لاکھ ڈالر کا سرمایہ نکال لیا ہے۔

روپے کے مقابلے میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر

دوسری جانب انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر نے روپے کی جم کر دھلائی کی ، انٹربینک میں ڈالر 4 روپے 24 پیسے اضافے کے ساتھ 215 روپے 19 پیسے پر بند ہوا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 5 روپے مزید مہنگا ہوکر 216 روپے پر بند ہوا۔

ایک روز کے دوران ڈالر کی قدر میں 1 اعشاریہ 97 فیصد کمی 28 ماہ بعد دیکھی گئی  ، ٹریڈنگ کے دورا ن ڈالر 216 روپے کے لیول پر بھی انٹر بینک میں دیکھا گیا۔

شہباز شریف حکومت کے دوران ڈالر 182 روپے 93 پیسے یعنی 11 اپریل 2022 سے آج 215 روپے 19 پیسے پر بند ہوا

شہباز حکومت کے دوران ڈالر کی قدر میں 32 روپے 26 پیسے اضافہ ہوا۔

شہباز حکومت میں روپیہ 17.6 فیصد اپنی قدر کھو بیٹھا ہے ، روپیہ کمزور پڑنے سے بیرونی قرضوں میں شہباز حکومت کے دوران 4 ہزار ارب روپے اضافہ ہوا ہے۔

کاروباری ہفتے کے پہلے روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر آج ایک وقت پر 5 روپے مہنگا ہوکر 216 روپے 50 پیسے کی بلند ترین سطح پر دیکھا گیا تھا۔

متعلقہ تحاریر