حکومت آئی ایم ایف مذاکرات: مالیاتی ادارے کا تمام شرائط پر عملدرآمد کا مطالبہ

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا حکومت پاکستان پر بجلی کے ریٹ بڑھانے پر دباؤ برقرار ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی رعایت ہوتی نظر نہیں آرہی۔

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی شرائط کے سامنے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار بند گلی میں ، عوام کی ناک سے مزید لکیریں نکالی جائیں گی۔

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی عوام کی زندگی اجیرن کرنے کی شرائط ، بجلی کی سبسڈی 300 یونٹس سے کم کر کے 100 یونٹ تک لانے کا مطالبہ کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

آئی ایم ایف کا دورہ: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اور ہوشربا اضافے کا امکان

وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کو تمام شرائط پوری کرنے کی یقین دہانی کرادی

یکم جولائی 2023 سے بجلی کے نقصانات ختم کرنا ہوں گے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کے پہلے دن ہی توانائی کے شعبے میں ریٹ بڑھانے پر تناؤ دیکھے گیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سخت ترین مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔

ٹیکنیکل مذاکرات میں توانائی کے معاملے پر دباؤ نظر آیا۔  حکام نے بتایا کہ سرکلر ڈیٹ اور توانائی کے نقصانات پر مذاکرات میں تناؤ تھا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا حکومت پاکستان پر بجلی کے ریٹ بڑھانے پر دباؤ برقرار ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی رعایت ہوتی نظر نہیں آرہی۔

مذاکرات میں توانائی کے سلسلے میں حکومت پاکستان نے 300 یونٹس تک ریلیف کی درخواست کی ہے لیکن آئی ایم ایف نے سبسڈیز کو صرف 100 یونٹ تک رکھنے کا مطالبہ کردیا ہے اور آئی ایم ایف اس سلسلے میں کسی قسم کا نرم رویہ اختیار کرنے کو تیار نہیں۔

حکومت پاکستان کو بجلی کا ریٹ مرحلہ وار بڑھانا ہوگا اور ساتھ ہی توانائی کے نقصانات 1600 ارب روپے کو یکسر ختم کرنا ہوگا۔

متعلقہ تحاریر