پاکستان کو جون میں ایک اور آئی ایم ایف پروگرام کی ضرورت پڑے گی، مرتضیٰ سید

پاکستان کو قرضوں میں فوری ریلیف کی ضرورت ہے، آئندہ 6 ماہ میں قرضوں کی ادائیگی کیلیے 10 سے 12 ارب ڈالر کی ضروت ہے، قرضوں میں ریلیف کے بغیر مالیاتی ایڈجسٹمنٹ نہیں ہو سکتی، سابق ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک

اسٹیٹ بینک کے سابق ڈپٹی گورنر اور ماہر معیشت مرتضیٰ سید نےمہنگائی کی چکی میں پستے پاکستانی عوام کوایک اور بری خبر سنادی۔

مرتضیٰ سید کا کہنا ہے کہ  پاکستان کو جون میں ایک اور آئی ایم ایف پروگرام کی ضرورت پڑ ے گی۔

یہ بھی پڑھیے

تاریخ میں پہلی مرتبہ ہفتہ وار مہنگائی 43 فیصد تک جا پہنچی

پاکستان کو چین سے 70 کروڑ ڈالر کے فنڈز موصول

بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو  میں سابق ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک مرتضیٰ سید نے کہا کہ  پاکستان کو آئندہ 6 ماہ میں قرضوں کی ادائیگی کیلیے 10 سے 12 ارب ڈالر کی ضروت ہے۔پاکستان کو آئندہ3 سال کے دوران 35ارب ڈالر کے بیرونی سرمائے کی ضرورت ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو قرضوں میں فوری ریلیف کی ضرورت ہے۔ملک کو قرضوں کی بھاری ادائیگیاں کرنی ہیں اور قرضوں میں ریلیف کے بغیر مالیاتی ایڈجسٹمنٹ نہیں ہو سکتی۔اگر پاکستان ریلیف حاصل کرنے میں ناکام رہا تو عام آدمی پر گنجائش سے زیادہ بوجھ پڑے گا۔

 یاد رہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کیلیے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات سے پہلے ہی ملک میں مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح40 فیصد سےبھی اوپر جاچکی ہے ۔دو سری جانب حکومت آئی ایم ایف کے مطالبے پر شرح سود میں 2 فیصد اضافہ کرنے جارہی ہے، ایسے میں جون میں ایک اور آئی ایم ایف پروگرام شروع ہونے کے نتیجے میں پاکستانی عوام پر مہنگائی کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں گے۔

متعلقہ تحاریر