اسٹاف لیول معاہدے سے قبل آئی ایم ایف نے مطالبات کی نئی فہرست پیش کردی
اسٹاف لیول معاہدہ کیلئے پاکستان پر مذید چار شرائط کیلئے دباؤ ہے۔ بجلی پر تین روپے 82 پیسہ فی یونٹ سرچارج چار ماہ کی بجائے مستقل بنیادوں پر عائد کرنا ہوگا۔

پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کیلئے غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے اور آئی ایم ایف کی تاریخ میں پہلی دفعہ اسٹاف لیول معاہدے سے پہلے شرائط پر عمل درآمد کا کہا جا رہا ہے۔
وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق تاریخی طور پر ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے پہلے پیشگی شرائط پر عمل درآمد کی شرط رکھی جاتی ہے۔
پروگرام بحالی میں پاکستان کو 1998 جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایم ای ایف پی کا ہر روز پاکستان کو نیا ڈرافٹ دیا جا رہا ہے۔ پہلے سے متفق شقوں میں تبدیلیاں کرکے مزید مطالبات کئے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
تمام ادارے بغیر کسی استثنیٰ کے کفایت شعاری پرعملدرآمد یقینی بنائیں، اسحاق ڈار
معیشت کا مشکل دن؛ اسٹاک میں مندی، ڈالر اور سونے کے بھاؤ بڑھ گئے
اسٹاف لیول معاہدہ کیلئے پاکستان پر مذید چار شرائط کیلئے دباؤ ہے۔ بجلی پر تین روپے 82 پیسہ فی یونٹ سرچارج چار ماہ کی بجائے مستقل بنیادوں پر عائد کرنا ہوگا۔
وزارت خزانہ چار ماہ کیلئے سرچارج عائد کرنے کیلئے تیار ہے لیکن آئی ایم ایف سرچارج مستقل بنیادوں پر عائد کرنے کیلئے بضد ہے۔
حکام کے مطابق آئی ایم ایف کا اسٹاف لیول معاہدے کی قبل شرح سود میں اضافہ کا مطالبہ برقرار ہے۔ شرح سود میں اضافے کیلئے مانیٹری پالیسی بورڈ کا اجلاس دو مارچ کو طلب کیا جاچکا ہے۔ آئی ایم ایف کا شرح سود ہیڈ لائن انفلیشن کے مطابق مقرر کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔
پاکستان شرح سود کو مہنگائی کے مطابق مقرر کر نے پر تیار ہے۔ آئی ایم ایف ایکسچینج ریٹ کو افغان باڈر ریٹ سے منسلک کرنے کا خواہش مند ہے۔
ایکسٹرنل فنانسنگ پر بھی آئی ایم ایف تحریری یقین دہانی کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ چین کے علاوہ کسی بھی دوست ملک سے واضح کمٹمنٹ نہیں مل سکی۔ چین کی طرف سے 700 ملین ڈالر پہلے ہی پاکستان کو مل چکے ہیں۔ چین سے مزید ایک ارب 30 کروڑ ڈالر تین اقساط میں بھی جلد مل جائیں گے۔
آئی ایم ایف پروگرام کی بحال میں وزارت خارجہ کے کردار سے بھی وزارت خزانہ ناخوش ہے۔ پرائمری خسارے اور کرنٹ اکاونٹ خسارے کے اعدادوشمار پر بھی اختلاف ہیں۔ پاکستان سات ماہ کے اعدادوشمار کے مطابق خسارے کا ہدف مقرر کرنا چاہتا ہے۔ آئی ایم ایف اپنی طرف سے ہدف مقرر کرنے پر بضد ہے۔









