حکومت آئی ایم ایف کے آگے لیٹ گئی، کے الیکٹرک کے صارفین پر ڈبل سرچارج عائد

یکم جولائی سے ملک بھر کے صارفین بجلی پر 3.23روپے فی یونٹ سرچارج عائد، ای سی سی نے کے الیکٹرک کا ٹیرف دیگر تقسیم کار کمپنیوں کے برابر لانے کیلیے رواں ماہ 1.56 روپے فی یونٹ اور اپریل، مئی میں 6.11 روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دیدی

حکومت نے آئی ایم ایف کے ایک اور مطالبے پر سرتسلیم خم کرتے ہوئے  یکم جولائی سے ملک بھر میں بجلی کے صارفین پر 3.23 روپے فی یونٹ تک کا سرچارج عائد کر دیا جبکہ کے الیکٹرک کے صارفین پر ڈبل سرچارج دعائد کردیاگیا۔

اس اقدام کا مقصد پاور سیکٹر کے قرضوں اور واجبات کی ادائیگی کے لیے اگلے مالی سال کے دوران مزید 335 ارب روپے کی آمدنی حاصل کرنا ہے۔

کےالیکٹرک کے صارفین کو دہری چپت لگانے کافیصلہ کرلیا گیا۔حکومت نے کے الیکٹرک  کو رواں ماہ میں 1.56 روپے فی یونٹ اور پھر اپریل اور مئی میں مزید 6.11 روپے فی یونٹ اضافے کی اجازت دے دی ۔ اس اقدام کا مقصدکمپنی کے ٹیرف کو  ملک کی دیگر تقسیم کار کمپنیوں کے برابرلانا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

برآمدی شعبے کیلیے بجلی 12 روپے 13 پیسے فی یونٹ مزید مہنگی

اسٹاف لیول معاہدے سے قبل آئی ایم ایف نے مطالبات کی نئی فہرست پیش کردی

یہ فیصلے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں کیے گئے۔اجلاس میں یوٹیلیٹی اسٹورز کے لیے 5 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکیج،گندم کی کم ازکم امدادی قیمت  3900 روپے فی من   مقررکرنے اور ایل سیز کے مسائل کے باعث بندرگاہ پر پھنسےکارگوز  کے اسٹوریج چارجز کی چھوٹ کی منظوری دی گئی۔

پاور ڈویژن کے ایک سینئر اہلکار نے کہا  ہے کہ توانائی  کی بچت کیلیے مارکیٹوں کی غروب آفتاب کے بعد بندش  کی  حکومتی کوششوں میں ناکامی کے بعد کمرشل صارفین کے لیے پیک آورز (رات 8 بجے کے بعد)  میں  بجلی کے نرخ دوگنا کرنے کے لیے جمعرات کو ایک الگ کیس وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ۔

ایک حکومتی  بیان میں کہا گیا ہے کہ ای سی سی  نے حکومت پربجلی کی پیدواری کمپنیوں کے واجبات کی ادائیگی کیلیے  مالی سال 2024 کے لیے سرچارج میں اضافے کے حوالے سے  پاور ڈویژن   کی  تجویز کو بھی منظور  کرلیا ۔مالی سال 2024 کیلیے  یہ سرچارجز کےالیکٹرک کے صارفین پر بھی لاگو ہوں گے تاکہ ملک بھر میں یکساں ٹیرف برقرار رکھا جا سکے۔

حکومت پہلے ہی جاری مالی سال کے بقیہ چار مہینوں (مارچ سے جون) کے لیے 3.39 روپے فی یونٹ اضافی سرچارج کی منظوری دے چکی ہے اور فی الحال نوٹیفکیشن کے لیے ریگولیٹری طریقہ کار سے گزر رہی ہے۔

 مالی سال 24-2023 میں نئے سرچارج کے لیے 335 ارب روپے کے فنانسنگ پلان کے تحت  200 یونٹس تک استعمال کرنے والے محفوظ صارفین کے لیے فی یونٹ 43 پیسے اضافی لاگت آئے گی۔ یہ سرچارج اگلے سال کے دوران دیگر تمام صارفین کے لیے 3.23 روپے فی یونٹ تک بڑھ جائے گا۔

دریں  ای سی سی نے کے الیکٹرک  کے100 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے علاوہ  تمام صارفین کے لیے ٹیرف میں  1.56 روپے فی یونٹ   اضافے کی بھی منظوری دی جس کی وصولی کی مدت تین ماہ (مارچ سے مئی 2023) ہے۔ اس کے علاوہ کے ای کے صارفین سے دو ماہ (اپریل اور مئی 2023) کی وصولی کی مدت کے لیے 3.21 روپے فی یونٹ کا ایک اور اوسط ٹیرف اضافہ بھی وصول کیا جائے گا۔

متعلقہ تحاریر