فروری 2022 کے بعد حکومتی قرض میں 27فیصد اور مہنگائی میں 31فیصد اضافہ

ایک سال میں اندرونی قرضو میں 23 فیصد اور بیرونی قرضو میں 35 فیصد اضافہ ہوا، قرضوں کی مجموعی مالیت 42 ہزار 762 ارب روپے سے بڑھ کر 54 ہزار 354 ارب روپے تک جاپہنچی

فروری 2022 کے بعد حکومتی قرض میں 27 فیصد اور مہنگائی میں  31 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے ایک سال کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے لیے گئے قرضوں کی تفصیلات جاری کردی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں رواں مالی سال کے اختتام پر 40 لاکھ لوگ خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے، ورلڈ بینک

بنیادی شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹ کا اضافہ ، شرح سود 21 فیصد ہو گئی

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے لیے گئے مقامی قرض میں ایک سال کے دوران  23 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ فروری 2022 میں مقامی قرض کی مالیت 27ہزار 706ارب روپے تھی جو فروری 2023 میں 34ہزار 72 ارب روپے ہوگئی ہے تاہم فروری اور جنوری کے درمیان ایک ماہ میں مقامی قرض میں ایک فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

اسی طرح  مرکزی حکومت کے بیرونی قرضوں میں ایک سال کے دوران 35 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور ان قرضوں کی مالیت 15ہزار 56 ارب روپے سے بڑھ کر 20ہزار 282ارب روپے تک جاپہنچی ہے البتہ جنوری اور فروری کےدرمیان ایک ماہ میں مرکزی حکومت کےبیرونی قرضون میں بھی 2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق فروری 2022 سے فروری 2023 کے درمیان ایک سال حکومت کے  عرصے میں مجموعی حکومتی قرض 27 فیصد اضافے کے بعد 42ہزار 762 ارب روپے سے بڑھ کر 54ہزار 354ارب تک جاپہنچا ہے جبکہ ایک ماہ کے دوران اس قرض میں بھی ایک فیصد کی کمی واقع  ہوئی ہے۔

متعلقہ تحاریر