مالی سال 2022-23 کے پہلے نو ماہ کے معاشی اعشاریوں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
رپورٹ کے مطابق جولائی سے مارچ میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی گروتھ میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی اور اس کی شرح جو گزشتہ سال 8.5 فیصد تھی 13.5 فی صد کمی کے بعد اب منفی 5.6 فیصد ہے۔

اخراجات اور خسارے بے لگام، صنعت تباہ، سرمایہ کاری میں 98 فیصد کمی، جولائی تا مارچ میں بدترین معاشی اعدادوشمار نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔
مسلم لیگ نون اور اس کی اتحادی پی ڈی ایم حکومت عوام اور ریاست کو راس نہیں آئی، معاشی اعدادوشمار نے ہر سمت تباہی مچا دی ہے۔ وزارت خزانہ نے رواں مالی سال جولائی سے مارچ معاشی رپورٹ جاری کر دی۔
رپورٹ کے مطابق جولائی سے مارچ تک اخراجات اور خسارے بے لگام رہے ، جبکہ بڑی صنعتی کی شرح منفی 5.6 فیصد ہوکر بے روزگاری کے بڑھنے کے خطرات پیش کر رہی۔
یہ بھی پڑھیے
ڈیبٹ سسٹین ایبلٹی اینالیسس رپورٹ نے ملکی معیشت اور عوام کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی
ناصر عبداللہ حسین لوطہ نے سمٹ بینک کے اکثریتی حصص اور انتظامی کنٹرول حاصل کرلیا
رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر، برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی میں کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔ جولائی سے مارچ ترسیلات زر 10.8 فیصد کم ہوکر 20.5 ارب ڈالر رہیں۔
رپورٹ کے مطابق جولائی سے مارچ کے دوران برآمدات 11 فیصد کم ہو کر 21.1 ارب ڈالر رہی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جولائی سے مارچ مالیاتی خسارہ گزشتہ سال کی نسبت بڑھ کر 2392 ارب روپے ہو گیا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال جولائی سے مارچ مالیاتی خسارہ 2273 ارب روپے تھا۔ وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق جولائی سے مارچ سالانہ ترقیاتی فنڈز 31 فیصد سے زائد کمی کے ساتھ 287 ارب خرچ ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال جولائی سے مارچ بیرونی سرمایہ کاری میں 98 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، رواں مالی سال جولائی سے مارچ زرمبادلہ ذخائر 10 ارب ڈالر رہ گئے۔ گزشتہ مالی سال اسی عرصے کے دوران زرمبادلہ ذخائر 16.57 ارب ڈالر تھے۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال جولائی سے مارچ مہنگائی کی شرح 27.3 فیصد رہی، وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال ابھی تک درآمدات کا حجم 21 فیصد کمی کے ساتھ 41.5 ارب ڈالر رہا۔
رپورٹ کے مطابق جولائی سے مارچ میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی گروتھ میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی اور اس کی شرح جو گزشتہ سال 8.5 فیصد تھی 13.5 فی صد کمی کے بعد اب منفی 5.6 فیصد ہے۔









