پاکستان اسٹاک مارکیٹ خطے کی بدترین مارکیٹ بن گئی
نیوز 360 کو موصول ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں 0.21 ملین سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ انویسٹ کررکھا ہے۔
جدید دنیا میں کسی بھی ملک کی ترقی یا تنزلی اس ملک کی معاشی اعشاریے کی مرہون منت ہو گئی ہے۔ دنیا بھر میں اسٹاک مارکیٹیس کا کردار بھی اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے ، تاہم ایشیائی اسٹاک مارکیٹیس میں پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے انویسٹرز کی تعداد ڈیفالٹ ملک سری لنکا سے بھی کم ہو گئی، جو کسی بھی طرح سے پاکستانی معیشت کے لیے مثبت اشارہ نہیں ہے۔
نیوز 360 کو موصول ہونے والے ایک ڈیٹا کے مطابق ایشیائی اسٹارک مارکیٹیس میں سے انڈین اسٹاک مارکیٹ میں انویسٹر کی تعداد 32 ملین ہے یعنی 3 کروڑ 20 لاکھ سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ انویسٹ کررکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
آئی ایم ایف نے خطرے کی گھنٹیاں بجادی؛ مالی خسارے میں اضافہ، زرمبادلہ میں کمی کا امکان
پاکستان کے مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 6 ملین امریکی ڈالر کی کمی
بھارت کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر رواں سال اپریل میں 6.306 ارب ڈالر بڑھ کر 584.755 ارب ڈالر ہو گئے تھے۔
تازہ ترین معاشی سروے کے مطابق بنگلادیشی کے زرمبادلہ کے ذخائر 35 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں جبکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے بنگلادیش اسٹاک مارکیٹ میں بھرپور سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔
نیوز 360 کو موصول ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق 2.7 ملین سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ اسٹاک مارکیٹ میں انویسٹ کررکھا ہے۔ یعنی 2 کروڑ 70 لاکھ انویسٹر نے اپنا سرمایہ اسٹاک مارکیٹ میں لگا رکھا ہے۔
نیوز 360 کو موصول ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق ڈیفالٹ ملک سری لنکا کی اسٹاک مارکیٹ کے انویسٹرز کی تعداد 0.63 ہے یعنی 6 لاکھ 30 ہزار سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ اسٹاک مارکیٹ میں لگا رکھا ہے۔
نیوز 360 کو موصول ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر گذشتہ کاروباری ہفتے کے اختتام پر 5.4 ارب ڈالر رہ گئے تھے۔ مرکزی بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ ہفتے زرمبادلہ کے ذخائر میں 6 ملین امریکی ڈالر کی کمی واقع ہوئی تھی۔
نیوز 360 کو موصول ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں دو لاکھ 10 ہزار سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ انویسٹ کررکھا ہے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر صرف ایک لاکھ انویسٹرز ایکٹو دکھائی دیتے ہیں۔









