ترجمان آئی ایم ایف کا عمران خان کی گرفتاری پر بیان دینے سے گریز
ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ معاشی پالیسی پر عملدرآمد کی یقین دہانی چاہتے ہیں۔ 9ویں جائزہ اجلاس کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ آئی ایم ایف کا مقصد ہے۔
ترجمان آئی ایم ایف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر پاکستان نے سستا پٹرول اسکیم شروع کی تو یہ سبسڈی نہ دینے کے معاہدے سے انحراف ہوگا۔
آئی ایم ایف کے ترجمان نے بلومبرگ سے رابطہ پر بتایا ہے کہ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سستا پٹرول اسکیم شروع نہ کرے اگر پاکستان نے سستا پٹرول اسکیم کا آغاز کیا تو یہ سبسڈی نہ دینے کے ایگریمنٹ سے انحراف ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان کی گرفتاری، معیشت پر بھاری؛ ڈالر 7 روپے مہنگا، اسٹاک میں 300 پوائنٹس کی کمی
غیر مستحکم سیاسی صورتحال کی وجہ سے ایک تولہ سونا 2 لاکھ 40 ہزار روپے کا ہوگیا
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ پاکستان کے ساتھ قرض پروگرام پر بات چیت چل ہے، پاکستان کے ساتھ قرض کی واپسی کے مربوط طریقہ کار پر اعتماد چاہتے ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ معاشی پالیسی پر عملدرآمد کی یقین دہانی چاہتے ہیں۔ 9ویں جائزہ اجلاس کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ آئی ایم ایف کا مقصد ہے۔
ترجمان نے مزید کہا ہے کہ پاکستان نے 2019 میں 6.7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کا معاہدہ کیا تھا۔ موجودہ قرض پروگرام کے تحت پاکستان 2.6 ارب ڈالر ادا کیے جانے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ قرض پروگرام جون 2023 میں ختم ہوجائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف عمران خان کی گرفتاری پر کوئی بیان دینا نہیں چاہتا۔









