ملک میں ہفتہ وار مہنگائی شرح 34 فیصد پر برقرار
22جون کو ختم ہونے والے ہفتے میں افراط زر کی شرح 0.33 فیصد تھی۔ اس ہفتے جن 51 اشیا کی قیمتوں پر نظر رکھی گئی ان میں سے 20 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، 12 اشیا کی قیمتوں میں کمی اور 19 اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا، ادارہ شماریات

ملک میں ہفتہ وار مہنگائی شرح 34 فیصد پر برقرار ہے۔22 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران آٹے سمیت 20 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور 12 اشیا کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 19 اشیا کی قیمتیں برقرار رہیں۔
ادارہ شماریات پاکستان نے ہفتہ وار مہنگائی کے اعداد وشمارجاری کردیے۔
یہ بھی پڑھیے
حکومت نے آئی ایم ایف کاایک اور مطالبہ مان لیا، درآمدات پر عائد تمام پابندیاں ختم
ای سی سی نے ملوں کو 60 دنوں میں 32000 میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی
ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ سال جن مصنوعات کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ان میں گندم کا آٹا (116فیصد)، سگریٹ (115فیصد)، چائے (113.6فیصد)، گیس چارجز (108فیصد)، باسمتی ٹوٹاچاول(77فیصد)، اری6/9 چاول (76فیصد) ، آلو (68فیصد)، کیلے (59فیصد)، نرم اسفنج چپل (58فیصد)، چکن (57.5فیصد)، پاؤڈر نمک (52فیصد)، روٹی (50فیصد) اور ماش کی دال (48فیصد)شامل ہے۔
اس کے برعکس جن مصنوعات کی قیمتوں میں سب سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ان میں پیاز (25 فیصد)، ٹماٹر (24 فیصد)، مسور کی دال (4.5 فیصد) اور ڈیزل (4 فیصد) شامل ہیں۔
گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں22جون کو ختم ہونے والے ہفتے میں افراط زر کی شرح 0.33 فیصد تھی۔ اس ہفتے جن 51 اشیا کی قیمتوں پر نظر رکھی گئی ان میں سے 20 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، 12 اشیا کی قیمتوں میں کمی اور 19 اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا ۔
گندم کے آٹے کی قیمت میں سب سے زیادہ 5 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا،آلو 2.6فیصد،چینی2.5فیصد،نمک 1.3فیصد،ماش کی دال 1.14 فیصد اور ماچس کی قیمت میں1.12فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
دوسری جانب جن مصنوعات کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے کے دوران سب سے زیادہ کمی ہوئی ان میں کیلے5.6فیصد،ایل بی جی 4.3فیصد، پیاز 4فیصد، ٹماٹر 1.6فیصد، گھی کا 2.5 کلو گرام کا پیکٹ ڈیڑھ فیصد، گھی کاایک کلو کا پیک 7 فیصد اور کوکنگ آئل کا پانچ لیٹر پیک 0.6فیصد سستاہوا۔









