شہباز شریف حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ کی وائنڈاپ تقریر میں کہا ہے کہ سپرٹیکس کا نفاذ کم سے کم 30 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے آمدن پر کردیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اور محصولات سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایکسٹرنل فنانسنگ نہ ہونے کی وجہ سے آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں 300 ارب روپے کی کمی حائل تھی ، یہ کمی 213 ارب روپے کے نئے ٹیکسز اور 85 ارب روپے کٹوتیوں سے پوری کی جائے گی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے لیے ترقیاتی بجٹ یا تنخواہوں میں اضافے پر کٹ نہیں لگے گا۔
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی میں بجٹ کی وائنڈاپ تقریر کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دسمبر میں ملک کے حالات کے پیش نظر درآمدات پر پابندی لگائی تھی، اب آہستہ آہستہ معمول کے معاشی حالات کی طرف جارہے ہیں، اس لیے درآمدات پر عائد پابندی ختم کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
آئی ایم ایف کا 100,000 ڈالر بھیجنے والوں کیلئے متعارف کرائی گئی اسکیم واپس لینے کا مطالبہ
حکومت نے آئی ایم ایف کاایک اور مطالبہ مان لیا، درآمدات پر عائد تمام پابندیاں ختم
سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے سپر ٹیکس ضروری ہے، سالانہ 15 کروڑ سے 20 کروڑ روپے منافع والی کمپنیوں پر ایک فیصد سپر ٹیکس عائد کر رہے ہیں، جبکہ سالانہ 20 کروڑ سے 25 کروڑ روپے منافع والی کمپنیوں پر 2 فیصد سپر ٹیکس عائد ہوگا۔
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ 25 سے 30 کروڑ روپے منافع والی کمپنیوں پر 3 فیصد سپر ٹیکس عائد کر رہے ہیں، اسی طرح سالانہ 30 سے 35 کروڑ روپے منافع کمانے والی کمپنیوں پر 4 فیصد سپر ٹیکس عائد ہوگا۔
وائنڈاپ بجٹ تقریر کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سالانہ 35 سے 40 کروڑ روپے منافع کمانے والی کمپنیوں پر 6 فیصد سپر ٹیکس عائد ہوگا، سالانہ 40 سے 50 کروڑ روپے منافع کمانے والی کمپنیوں پر 8 فیصد سپر ٹیکس عائد ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ سالانہ 50 کروڑ روپے سے زائد منافع کمانے والی کمپنیوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز منظور کررہے ہیں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بجٹ میں 99 ڈی کی ترمیم کسی ایک انفرادی کمپنی کے لیے نہیں، بجٹ میں 99 ڈی کے تحت بہت زیادہ منافع کمانے والے سیکٹرز پر ٹیکس عائد کریں گے، کسی ایک کمپنی پر نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بونس شیئر کے منافع پر انکم ٹیکس کی ودہولڈنگ کی شرح 15 فیصد برقرار رہے گی، بونس شیئرز کی صورت میں ادائیگی کرنے پر 10 فیصد انکم ٹیکس ودہولڈنگ ٹیکس عائد کر رہے ہیں۔
سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات لیوی بڑھانے کا محدود اختیار وفاقی حکومت مل گیا یے، حکومت صرف پٹرول اور ڈیزل پر لیوی 10 روپے بڑھنے کا اختیار حاصل کرے گی، حکومت صرف پٹرول اور ڈیزل پر لیوی 50 سے بڑھا کر 60 روپے کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں پنشن کی اصلاحات کا آغاز کر رہے ہیں، اب ایک پینشنرز کو تین تین پینشن نہیں دے سکتے، اب پینشنرز کو صرف ایک پنشن ملے گی جو سب سے زیادہ پنشن ہے وہ لے سکتے ہیں، پینشنر کی بیوی یا شوہر کے انتقال کے بعد بچوں کو صرف 10 سال تک پینشن ملے گی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل مشاورت کرتے رہے ہیں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس ہدف میں مزید 215 ارب روپے کا اضافہ کر رہے ہیں۔
سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ٹیکس کا ہدف 9200 سے بڑھا کر 9415 ارب روپے کیا جا رہا ہے، اب این ایف سی کے تحت صوبوں کا حصہ 5390 ارب روپے کیا جارہا ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارے میں 300 ارب روپے کی کمی کر رہے ہیں، بجٹ میں 85 ارب روپے کی اخراجات میں کٹوتی کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا معاہدے کی تکمیل کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل مشاورت کرتے رہے ہیں۔
بجٹ تقریر کے آغاز پر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ تمام اراکین قومی اسمبلی کی بجٹ تقریر اور تجاویز کا شکریہ ادا کرتا ہوں، وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور اپوزیشن لیڈر راجا ریاض کا خاص شکریہ ادا کرتا ہوں، حکومت کی تمام اتحادی جماعتوں اور خواتین اراکین قومی اسمبلی کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔









