آئی ایم ایف کا دباؤ: حکومت کا عوام پر مزید 200 ارب روپے کے ٹیکسز لگانے کا فیصلہ

ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں پہلے ہی 215 ارب روپے کے ٹیکسز کا تخمینہ لگایا تھا اب مزید 200 ارب روپے ٹیکسز لگانے سے حکومت 415 ارب روپے حاصل ہوں گے۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے دباؤ پر شہباز شریف حکومت نے عوام سے مزید ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت عوام پر مزید 200 ارب روپے کے ٹیکسز لگانے جارہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بجٹ کی منظوری سے قبل ہی وفاقی حکومت نے ایک اور بجٹ لانے کی تیاری کرلی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے بجٹ میں 215 ارب روپے کے ٹیکسز پہلے ہی عوام پر عائد کردیے گئے، تاہم اب مزید 200 ارب روپے کے ٹیکسز لگانے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

آئی ایم ایف کا 100,000 ڈالر بھیجنے والوں کیلئے متعارف کرائی گئی اسکیم واپس لینے کا مطالبہ

حکومت نے آئی ایم ایف کاایک اور مطالبہ مان لیا، درآمدات پر عائد تمام پابندیاں ختم

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح حکومت آیندہ بجٹ میں عوام سے مجموعی طور پر 415 ارب روپے کے ٹیکس وصول کرے گی۔

ذرائع کے مطابق سالانہ 24 لاکھ سے زائد آمدن پر افراد پر انکم ٹیکس 2.5 فیصد بڑھا دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ماہانہ 2 لاکھ سے زائد کی تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح میں 2.5 فیصد اضافہ کردیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کھاد پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، کھاد پر 5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی لگانے سے 35 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل ہوگی۔

ذرائع کے مطابق پراپرٹی کی خرید وفروخت پر ایک فیصد ٹیکس بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ، پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس ایک سے بڑھا کر 2 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پراپرٹی کی خرید و فروخت سے مزید 45 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ تحاریر