آئی ایم ایف ڈیل کا پہلا نتیجہ: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس میں 2000 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
پی ایس ایکس میں صبح 9:37 کے قریب ٹریڈنگ روک دی گئی، مارکیٹ کا آغاز 2 ہزار 231 پوائنٹس کے اضافے سے 43,683.78 کے پوائنٹس پر ہوا۔
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی (آئی ایم ایف) کے ساتھ 3 بلین ڈالر کے انتہائی متوقع معاہدے کے پیش نظر پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز زبردست تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ 100 انڈیکس میں 2000 سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ دیکھنےمیں آیا ہے۔
اسٹاک مارکیٹ ٹریڈنگ کے پہلے 10 منٹ کے مختصر وقت کے دوران کے ایس ای 30 انڈیکس میں 5% کا متاثر کن اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے سیشن دوبارہ 10 بجکر 37 منٹ پر دوبارہ شروع ہوا۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 3 ارب ڈالر کے عملے کی سطح پر معاہدہ طے پا گیا
کے ایس ای 100 انڈیکس، جو مارکیٹ کی کارکردگی کا ایک نمایاں بینچ مارک ہے، نے 2,231.1 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ دکھایا اور انڈیکس 43 ہزار 683 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 3 ارب ڈالر کے عملے کی سطح پر معاہدہ طے پا گیا۔ جمعہ کے روز آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ 3 بلین ڈالر کے اسٹینڈ بائی انتظامات پر عملے کی سطح پر معاہدہ کیا ہے۔
آئی ایم ایف کا بیان
عالمی مالیاتی ادارے نے اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کی تصدیق کردی ہے۔ آئی ایم ایف کے حکام کا کہنا ہے کہ ڈیفالٹ کے دھانے پر کھڑے پاکستان کے ساتھ طویل عرصے کی مشاورت کے بعد معاہدہ طے پاگیا ہے۔
آئی ایم ایف کے حکام کا کہنا ہے یہ معاہدہ جولائی میں آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے، آٹھ ماہ کی تاخیر کے بعد سامنے والا معاہدہ پاکستان کے لیے سہولیات کے دروازے کھولتا ہے، جو ادائیگیوں کے شدید بحران اور گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر سے لڑ رہا ہے۔
ذاکرات کے اختتام پر جاری نیتھن پورٹر کا بیان
"مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ آئی ایم ایف ٹیم نے پاکستانی حکام کے ساتھ اسٹاف کی سطح پر 2,250 ملین ڈالر (تقریباً 3 بلین ڈالر) کا نو ماہ کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (SBA) پر معاہدہ طے پاگیا ہے۔
نیتھن پورٹر کے مطابق "نیا معاہدہ آئی ایم ایف کے 2019 کے توسیعی فنڈ سہولت سے تعاون یافتہ پروگرام کے تحت حکام کی کوششوں پر استوار ہے، جس کی میعاد جمعہ کو ختم ہونا تھی۔
نیتھن پورٹر نے مزید کہا ہے کہ "یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے، تاہم امید ہے کہ جولائی کے وسط تک اس درخواست پر غور کیا جائے گا۔









