آئی ایم ایف نے گریڈ 17 سے 22 کے افسران کے اثاثے پبلک کرنے کی شرط رکھ دی

کرپشن کی روک تھام کیلئے الیکٹرانک ایسٹ ڈکلیریشن سسٹم قائم کر دیا گیا۔

آئی ایم ایف کے ساتھ نئے قرض پروگرام کیلئے یکے بعد دیگرے شرائط در شرائط، گریڈ 17 سے 22 افسران کے اثاثے پبلک کرنے اور سرکاری اداروں میں انسداد کرپشن کے لیے ٹاسک فورس قائم کرنے کی شرط۔ رکھ دی۔

آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کے لیے پاکستان کو پے در پے شرائط کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کرپشن کی روک تھام کیلئے الیکٹرانک ایسٹ ڈکلیریشن سسٹم قائم کر دیا گیا، گریڈ 17 سے 22 کے افسران بیرونی اثاثے نہیں چھپا سکیں گے۔

بینکوں سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معلومات تک رسائی ہوگی، اس حوالے سے تمام بینکس ایف بی آر کو فیڈ بیک دینے کے پابند ہونگے۔

منتخب یا غیر منتخب عوامی نمائندوں کے سالانہ ایسٹ ڈکلیریشن کو عام کیا جائے گا۔ اس سلسلے ایک ٹاسک فورس بنائی جائے گی جو انسداد کرپشن کے لیے اصلاحات کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے 

پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں 2.08 بلین ڈالر کی کمی

آئی ایم ایف معاہدے کی تفصیلات جاری: پیٹرولیم لیوی کی مد میں 859 ارب روپے وصول کرنے کی شرط عائد

ٹاسک فورس میں وزیر قانون، چیئرمین نیب اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور ایف آئی اے کے اعلیٰ ترین سرکاری افسران اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان بھی شامل ہوں گے۔

پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان نے نئی ٹیکس چھوٹ، رعائت یا ایمنسٹی نہ دینے کی یقین دہانی کرا دی۔ منی لانڈرنگ ، ٹیرر فنانسنگ کیخلاف فیٹف شرائط پر عمل درآمد کا عزم ہے۔

سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ سرکاری اداروں کی کارکردگی رپورٹ جاری کرے گا، دستاویز کے مطابق غریب ترین طبقے کو مہنگائی کے حساب سے ریلیف دینے کا عزم ظاہر کیا گیا۔

توانائی شعبے میں بنیادی ٹیرف میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔ ہاوسنگ ، تعمیرات کے شعبے میں خامیاں دور کی جائیں گی۔

آئی ایم ایف کو ایکسچینج ریٹ مارکیٹ میں مداخلت یا کوئی پابندی نہ لگانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی نئے قرض معائدے پر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کرائی ہے۔ نون لیگ، پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی آئی ایم ایف قرض معاہدے پر کاربند رہنے کیلئے پرعزم ہیں۔

بڑی سیاسی جماعتوں نے پروگرام کے مقاصد اور پالیسیوں کی حمایت کر دی، اسٹینڈ بائی اریجمنٹ معائدہ میکرو اکنامک استحکام کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا، معاہدے سے آنے والے مہینوں میں بیرونی فنانسنگ کے حصول کیلئے مدد ملے گی۔

متعلقہ تحاریر