گردشی قرضہ پاکستانی معیشت کے لیے مسلسل خطرہ

گردشی قرضے کی مد میں ادا کیے گئے 4 ہزار ارب روپے سے پاکستان میں دو بڑے ڈیموں کی تعمیر ممکن بنائی جاسکتی تھی۔

توانائی کا گردشی قرضہ (سرکلر ڈیٹ) جہاں پاکستان کی معیشت کو کھوکھلا کر رہا ہے وہیں مسلسل ایک خطرہ بن گیا ہے۔ معاشی تھنک ٹینک پرائم کی گردشی قرضے سے تعلق رپورٹ میں اس حوالے سے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں کہ حکومت کب تک بجلی کے ہر یونٹ پر 7 روپے کا نقصان برداشت کرسکتی ہے۔

توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ پاکستان کے معاشی پالیسی سازوں، حکمرانوں، اراکین کابینہ اور بیورو کریسی کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔ اس حوالے سے کئی رپورٹس پہلے بھی آچکی ہیں اور ایسے میں پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی ‘پرائم’ نے بھی اپنی رپورٹ جاری کردی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بجلی کی لاگت سے وصولی صرف 66 فیصد اور مسلسل 33 فیصد خسارہ ہے۔  یہ خسارہ گذشتہ 14 سال سے حکومت پاکستان سبسڈی کی مد میں برداشت کر رہی ہے۔ اب تک حکومت پاکستان گردشی قرضے کی مد میں لگ بھگ 4 ہزار ارب روپے ادا کر چکی ہے جبکہ مزید 2 ہزار 300 ارب روپے کا گردشی قرضہ ایک بار پھر سر اٹھانے لگا ہے۔

گردشی قرضے کا مستقل خطرہ معیشت کے لیے بوجھ ہے جو معاشی ترقی، سماجی ترقی، صحت عامہ اور تعلیم کے شعبے میں پاکستانیوں کے لیے مشکلات پیدا کیے ہوئے ہے۔

گذشتہ 14 سال میں گردشی قرضے کی صورت میں جو رقم پاکستان ادا کرچکا ہے اس کا موزانہ کیا جائے تو اس رقم سے دو بڑے ڈیم، بھاشا اور داسو بنائے جاسکتے تھے۔ کیونکہ ان دونوں کی پیداواری لاگت بھی 3 ہزار 300 ارب روپے کے قریب ہے۔

بجلی کے نرخ

اسی طرح پاکستان کے 14 سال کے ترقیاتی بجٹ میں گردشی قرضوں کی صورت میں دیے گئے 4 ہزار ارب روپے پاکستانی ترقیاتی بجٹ میں شامل کیے جاتے تو بجٹ کا حجم دگنا ہوسکتا تھا۔ عوام کے لیے تعلیم، صحت عامہ، سماجی تحفظ، بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام، سیوریج اور پینے کے صاف پانی جیسے بنیادی مسائل کے حل میں بڑی مدد مل سکتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں کوکا کولا کی فروخت میں 6 فیصد اضافہ، رپورٹ

پرائم کی رپورٹ کے مطابق معیشت کا گردشی قرضہ 5.2 فیصد کو پہنچ چکا ہے جو 2022 تک 2 ہزار 800 ارب اور 2025 تک 4 ہزار 900 ارب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے سال بجلی کی وصولی کی شرح بہتر ہوئی تھی لیکن دوسرے سال بہتر ہونے کی بجائے مزید کم ہوگئی تھی۔

سال 2018 میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں بجلی کے بلوں سے وصولی کی شرح 87.71 فیصد تھی۔ اسی طرح 2019 میں پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی وصول کی شرح 90.25 فیصد تھی۔ یعنی تمام تقسیم کار کمپنیاں مجموعی طور پر 100 روپے کی بجلی تقسیم کر کے 90 روپے 25 پیسے وصول کر رہی تھیں اور ان کا مجموعی نقصان 9 روپے 75 پیسے تھا۔

ماہرین نے گردشی قرضے کو پاکستانی معیشت کے لیے مستقل خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘گزشتہ برسوں کی طرح سال 2020 میں یہ شرح بہتر ہونے کی بجائے مزید بگڑ گئی اور اس کی شرح اب 88.77 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ کرونا کی وباء کی وجہ سے عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دیا گیا اور وصولیوں کا دائرہ کار متاثر ہوا۔’

حکومت آئی پی پیز
Xinhua

توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور نجکاری کی ضرورت

رپورٹ کے مطابق پاکستان کو توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر عملدرآمد کرانے کی فوری ضرورت ہے۔ بجلی کی تقسیم کے نقصانات فوری طور پر کم کرنا ہوں گے اور موجودہ پیچیدہ اور فرسودہ نظام کو ہنگامی طور پر اپ گریڈ کرنا ہوگا۔

تھنک ٹینک پرائم کی رپورٹ کے مطابق بجلی کی ٹرانسمیشن لائن پر سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت ہے۔ بڑی ٹرانسمیشن لائنز کے بجائے چھوٹے گرڈ اسٹیشنز سے چھوٹی آبادیوں کو منسلک کرنا ہوگا۔

بڑے گرڈ اسٹیشنز اور لمبی ٹرانسمیشن لائنز سے بڑی اور گنجان آبادیوں کو بجلی فراہم کرنے سے نقصانات کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔

متعلقہ تحاریر