پی ایس ایکس کو تنزلی کا سامنا،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ گیا
ایم ایس سی آئی نے پی ایس ایکس کو ایمرجنگ مارکیٹ سے فرنٹیئر مارکیٹ میں تنزلی کی تجویز دی ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مورگن اسٹینلے کیپیٹل انٹرنیشنل (ایم ایس سی آئی) نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو ایمرجنگ مارکیٹ (ای ایم) کے درجے سے فرنٹیئر مارکیٹ (ایف ایم) کے درجے میں تنزلی کی تجویز پیش کی ہے، جبکہ کرونا کی وباء کے دوران لاک ڈاؤن کے باعث برآمدات اور ترسیلات زر میں کمی کی وجہ سے مئی کے مہینے میں پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
انویسٹوپیڈیا کے مطابق ایمرجنگ مارکیٹ کو فرنٹیئر مارکیٹ سے زیادہ مستحکم تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ زیادہ ترسیلات زر کی پیشکش کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
آئی ایم ایف نے شوکت ترین کے دعوے کی تصدیق کردی
ایم سی آئی کی تجویز پر حتمی فیصلہ ستمبر میں متوقع ہے۔ پاکستان کو 2017 میں 9 سال بعد فرنٹیئر مارکیٹ سے ایمرجنگ مارکیٹ کے درجے میں ترقی دی گئی تھی۔
#MSCI to start consultation to reclassify #Pakistan to frontier market. Please find below details #MSCI #EM #FM #KSE100 #PSX @MSCI_Inc @pakstockexgltd pic.twitter.com/hqfEpEvOLC
— Arif Habib Limited (@ArifHabibLtd) June 24, 2021
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے 2017 میں ایمرجنگ مارکیٹ کا درجہ حاصل کیا تھا تاہم تین کمپنیوں کی جانب سے مطلوبہ ہدف حاصل نہ کرنے پر پی ایس ایکس کو فرنٹیئر مارکیٹ کا درجہ دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
مورگن اسٹینلے کیپیٹل انٹرنیشنل کے حکام پی ایس ایکس کے عہدیداروں سے 31 اگست کو ملاقات کرکے اپنی تجویز پیش کریں گے۔
دوسری جانب اپریل میں 18 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز ریکارڈ کیا جانا والا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مئی میں بڑھ کر 63 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز تک پہنچ گیا ہے۔
برآمدات میں کمی ، عید کی تعطیلات اور جزوی لاک ڈاؤن خسارے کا سبب رہے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں کرنٹ اکاونٹ سرپلس 15 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز رہا تھا۔









