دیگر کرنسیز کے مقابلے روپے کی قدر مستحکم
رواں سال ڈالر کے مقابلے پاکستانی کرنسی میں صرف 2.5 فیصد کمی ہوئی ہے۔
ڈالر کی قدر میں بڑھتے اضافے کے ساتھ جہاں دنیا بھر کی کرنسیز غیرمستحکم ہورہی ہیں وہیں سخت حالات کے باوجود پاکستانی روپے کی قدر میں استحکام برقرار ہے۔ رواں سال ڈالر کے مقابلے پاکستانی کرنسی میں صرف 2.5 فیصد کمی ہوئی۔
وفاقی حکومت کے معیشت کی بحالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں۔ ترسیلات زر میں اضافہ ہونے سے روپے کی قدر میں استحکام رہا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان کے نامور صحافی کامران خان نے برطانوی نیوز ایجنسی روئٹرز کی ڈالر کے مقابلے دیگر کرنسیز کی قدر میں کمی کی رپورٹ شیئر کی۔ کامران خان نے لکھا کہ عالمی دباؤ کے باوجود پاکستانی روپے نے دیگر کرنسیز کے درمیان اپنی طاقت کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
Though currently under some pressure PKR has pretty much held on to its strength amongst international currencies year to date. This year PKR has depreciated 2.5%, while plenty of regional and other currencies dropped significantly against the USD. See Reuters table: pic.twitter.com/fWnc7QLq9v
— Kamran Khan (@AajKamranKhan) August 11, 2021
یہ بھی پڑھیے
برآمدات اور ٹیکس محصولات میں اضافہ مگر ڈالر کی اونچی اڑان
کامران خان نے لکھا کہ رواں سال ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں صرف 2.5 فیصد کی کمی ہوئی۔ اسی طرف ڈالر کے مقابلے میں دیگر کرنسیز کو دیکھا جائے تو ان کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی دیکھنے کو ملی۔
روئٹرز کی رپورٹ میں میانمار، ترکش لیرا، کولمبیئن پیسو، ارجنٹائن پیسو، تھائی لینڈ کی بھات سمیت دیگر کرنسیز کو شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مختلف معاشی اور سیاسی مسائل کے باعث ان ممالک کی کرنسیز ڈالر کا مقابلہ نہیں کرسکیں جس کے باعث وہاں مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔









