آئی ایم ایف نے وزیراعظم اور وزیر خزانہ کے دعوؤں کو غلط ثابت کردیا
آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان کو 2 بلین ڈالر کے قرض کی 'دو مشترکہ قسطیں' حاصل کرنے سے پہلے تمام شرائط کو تسلیم کرنا ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے 2 ارب ڈالر ملنے کے اعلان کے ٹھیک ایک روز بعد عالمی مالیاتی ادارے نے کہا کہ پاکستان کو قرض کی ‘دو مشترکہ قسطیں’ حاصل کرنے سے پہلے اس کی تمام شرائط کو تسلیم کرنا پڑے گا۔
پاکستان کے معروف اخبار ڈان کے رپورٹر خلیق کیانی بدھ کی رپورٹ کے مطابق "پاکستان کو جولائی کے آخر یا اگست کے شروع میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے تقریباً 1.85 بلین ڈالر کی دو مشترکہ قسطیں حاصل کرنے کے لیے کم از کم دو مزید شرائط کو تسلیم کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیے
شوگر مافیا پھر سرگرم، ن لیگ کی حکومت سے چینی برآمد کی اجازت مانگ لی
شوکت ترین کی احسن اقبال پر تنقید، معاشی ترقی کا طریقہ بھی بتایا
اعلیٰ حکومتی ذرائع نے کہا کہ یہ پیشگی کارروائیاں ہیں جوکہ کارکردگی کے جائزے کے لیے ساختی معیارات کی ایک سیریز کے علاوہ ہوں گی-
رپورٹ کے مطابق 39 ماہ کے لیے ساتویں اور آٹھویں سہ ماہی جائزوں کے انضمام کے لیے مالیاتی فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری ضروری ہوں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 6 ارب ڈالر کا قرض پروگرام اصل میں جولائی 2019 میں شروع ہوا تھا۔
امریکی حمایت سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ آخری مرحلے میں داخل
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو ساتویں اور آٹھویں مشترکہ جائزوں کے لیے آئی ایم ایف سے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فسکل پالیسیز (اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کی مفاہمت کی یادداشت) (ایم ای ایف پی) موصول ہو گیا ہے۔
گزشتہ روز ٹرن اراؤنڈ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں بتایا گیا ہے پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی بجائے 2 ارب ڈالر ملیں گے جبکہ وفاقی حکومت نے خود انحصاری کے حصول کا ہدف مقرر کیا ہے۔
وزیر اعظم نے ملک کی ترقی کے ساتھ ساتھ خود انحصاری کی ضرورت کے لیے تمام حلقوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خود انحصاری سیاسی اور اقتصادی آزادی کی ضمانت دیتی ہے۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پروگرام کے ساتویں اور آٹھویں جائزے کے لیے مشترکہ اقتصادی اور مالیاتی اہداف حاصل کرنے کے بعد پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے باہر نکل آیا ہے۔
مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا صورتحال اب بھی مشکل ہوگی کیونکہ حکومت نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ٹیکس لینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ انہوں نے اضافی ٹیکس وصولی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا کارنامہ قرار دیا تھا۔
مفتاح اسماعیل کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے اعلان اور آئی ایم ایف کے ترجمان کی تردید کے بعد سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔
پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایم ای ایف پی کا مسودہ موصول ہو گیا۔
پاکستان کو 7ویں اور 8ویں مشترکہ جائزوں کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کا مسودہ (MEFP) موصول ہو گیا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے لکھا ہے کہ ” آج صبح سویرے، حکومت پاکستان کو IMF سے 7ویں اور 8ویں مشترکہ جائزوں کے لیے ایک MEFP موصول ہوا ہے۔”









