شہباز شریف حکومت میں مہنگائی کی شرح میں 33 فیصد اضافہ ریکارڈ
ادارہ شماریات کے ہفتہ وار مہنگائی کے اعدادوشمار کے مطابق ایک ہفتے میں 29 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

ملک میں مہنگائی کی تاریخی بلندی، جولائی کے وسط میں مہنگائی گزشتہ سال کی نسبت 33 فیصد زیادہ ہے، مہنگائی نے عوام کی قوت خرید کو تہس نہس کردیا۔
موجودہ حکومت نے 95 دن عوام کے لیے مزید بھاری ہوگئے ہیں اور ملک میں مہنگائی کے اعداد و شمار کی سمت افقی ہے، مسلسل مہنگائی بڑھنے سے عوام روزمرہ استعمال کی اشیا کو خریدنے کے لیے پریشان رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
آئی ایم ایف سے قرض کی راہ ہموار ہونے کے باوجود روپے کی گراوٹ تشویشناک
کمرشل بینکس کے ڈپازٹس 15 فیصد اضافے سے 23 کھرب روپے تک پہنچ گئے
پاکستان شماریات بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق 8 تا 15 جولائی ایک ہفتے کے اندر مہنگائی کے بڑھنے کی شرح میں 0.01 فیصد اضافہ ہوا۔
اس دوران گزشتہ سال 2021 جولائی وسط کے مقابلے میں 2022 جولائی کے وسط میں مہنگائی کے بڑھنے کی شرح 33.12 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی۔
پاکستان شماریات بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے 29 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ، 5 میں کمی اور 17 میں استحکام رہا۔
ایک سال میں ڈیزل 141.46فیصد ، پیٹرول 119اور پیاز 89فیصد اضافہ ہوا۔ ایک سال میں دال مسور 88.60 فیصد ،گھی 79 اور خوردنی تیل 73 فیصد مہنگا ہوا۔ ایک سال میں چکن 52.61 فیصد، دال چنا 51 اور لہسن 40.54 فیصد مہنگا ہوا۔
اگر ہفتہ وار مہنگائی کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مسلسل ساتویں ہفتے مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا اور ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی مزید 0.01 فیصد بڑھ گئی۔
ادارہ شماریات کے ہفتہ وار مہنگائی کے اعدادوشمار کے مطابق ایک ہفتے میں 29 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔ حالیہ ہفتے برائلر مرغی 12 روپے20 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق آلو 2 روپے 54 پیسے، باسمتی چاول 1 روپے 35 پیسے فی کلو مہنگے ہوئے۔ لہسن 2 روپے 51 پیسے،دال مونگ 1روپے 22 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی۔ 20 کلو آٹے کا تھیلا 6 روپے 67 پیسے مہنگا ہوا۔
ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں مٹن 3 روپے 33 پیسے بیف ایک روپے 75 پیسے فی کلو مہنگا ہوا۔ حالیہ ہفتے دال مسور،دال ماش پیاز گھی مہنگا ہوا ، ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں پانچ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔









