ڈالر 3 ماہ کی بلند ترین جبکہ اسٹاک مارکیٹ 21 ماہ کی کم ترین سطح پر

رواں کاروباری ہفتے کے دوران ڈالر کی قیمت میں تقریباً 15 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے 350 ارب روپے ڈوب گئے۔

پاکستانی معیشت کے حوالے سے آج ایک اور برا دن رہا ، انٹربینک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 2 روپے 8 پیسے کمی ہوئی جبکہ اسٹاک ایکسچینج 40 ہزار کی نفسیاتی حد برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ملک میں جاری سیاسی کشمکش روپے پر دباؤ کو باعث بن رہی ہے ، جبکہ افواہوں کی فیکٹریاں اس ساری صورتحال میں اہم کردار ادا کررہی ہیں ، حکومت نے بروقت ایکشن نہ لیا تو ڈالر کو 240 روپے تک جانے سے نہیں روکا جاسکتا۔

کاروباری ہفتے کے چوتھے روز اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز منفی انداز سے شروع ہوا جو آخری وقت تک جاری ہے۔ حصص کی مارکیٹ میں ابتدائی دو گھنٹوں میں مارکیٹ 469 پوائنٹس لوز کر گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسٹیٹ بینک

ملک کی معاشی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جارہا ہے، اسٹیٹ بینک

روپے پر دباؤ کی وجہ سے اسٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس کاروبار کے اختتام پر 627.95 پوائنٹس لوز کرگیا اور مارکیٹ 40 ہزار کی نفسیاتی حد برقرار نہ رکھتے ہوئے 39 ہزار 831 پوائنٹس پر بند ہوئی۔

پنجاب کے ضمنی انتخابات اور وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے ارد گرد گھومتی سیاست نے سرمایہ کاروں کے ذہنوں میں گھبراہٹ پیدا کر دی ہے، جس کی وجہ سے شیئرز کی فروخت پر دباؤ رہا۔

حصص کی مارکیٹ میں کل 15 کروڑ 79 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے جن کی مالیت 4 ارب 28 کروڑ روپے تھی۔

اسی طرح مارکیٹ کا مالیاتی حجم 109 ارب روپے کم ہو کر 6 ہزار 708 ارب روپے رہ گیا۔

شدید مندی کی وجہ سے رواں ہفتے میں اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے 350 ارب روپے ڈوب گئے۔

ادھر انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں میں ڈالر کی اونچی اڑان جاری  ، انٹربینک میں ڈالر 2.08 روپے مہنگا کر 227 روپے پر پہنچ گیا اور اسی طرح سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر تقریباً 3 روپے مہنگا ہوکر 229 روپے پر پہنچ گیا۔

متعلقہ تحاریر