شہباز حکومت کے یوٹرن پر یوٹرن، لگژری آئٹمز کی امپورٹ کی اجازت ٹیکس اضافے کے ساتھ
وفاقی حکومت نے 18 مئی 2022 کو 860 امپورٹڈ آئٹمز کو لگژری ، غیرضروری اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھانے کا سبب قرار دے کر بین کردیا تھا۔
وفاقی حکومت کا ایک اور یوٹرن ، امپورٹڈ لگژری آئٹمز ٹیکس بڑھا کر امپورٹ کرنے کی اجازت دے دی گئی ، ملک میں امپورٹڈ چاکلیٹس ، موبائل فون ، گاڑیاں ، میک اپ کا سامان ، امپورٹڈ کراکری ، امپورٹڈ و برانڈڈ چشمے ، پرس ، کپڑے ، جوتے اور لگژری باتھ روم فٹنگز سمیت سینکڑرو ں امپورٹڈ لگژری آئٹمز امپورٹ ہوسکیں گی۔
وفاقی حکومت نے 18 مئی 2022 کو 860 امپورٹڈ آئٹمز کو لگژری ، غیرضروری اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھانے کا سبب قرار دے کر بین کردیا تھا۔ اب اس بارے میں یوٹرن لے لیا گیا ہے اور ان تمام آئٹمز پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھا کر امپورٹ کیا جاسکے گا۔
یہ بھی پڑھیے
شوکت ترین، حماد اظہر اور مزمل اسلم نے حکومتی معاشی پالیسز کو آڑے ہاتھوں لے لیا
حکومت 4 ارب ڈالر کے بدلے کیا کیا سرنڈر کرنے جارہی ہے؟
امپورٹڈ چاکلیٹ پر ڈیوٹی 10 سے بڑھا کر 49 فیصد کردی گئی ، نوٹیفیکیشن کے مطابق امپورٹڈ گوشت اور مچھلی پر ریگولیٹری ڈیوٹی دگنی کردی گئی ہے۔
امپورٹڈ دلیے اور آٹے پر ڈیوٹی 10 سے بڑھا کر 35 فیصد کردی گئی۔
برینڈڈ امپورٹڈ ڈرائی فروٹس اور بادام پر ڈیوٹی 20 سے بڑھا کر 74 فیصد کردی گئی۔
امپورٹڈ ڈرائی کیلے پر ڈیوٹی 10 سے بڑھا کر 74 فیصد کردی گئی۔
اسی طرح سے امپورٹڈ انگور اور مالٹے پر ڈیوٹی 10 سے بڑھا کر 49 فیصد کردی گئی۔
امپورٹڈ کوکو پاؤڈر پر ڈیوٹی 10 سے بڑھا کر 49 فیصد کردی گئی۔
امپورٹڈ جام اور جیلی پر ڈیوٹی 20 سے بڑھا کر 49 فیصد کردی گئی۔
نوٹی فیکیشن کے مطابق امپورٹڈ باتھ روم فیٹنگز پر ڈیوٹی 30 سے بڑھا کر 49 فیصد کردی گئی۔
جیولری باکس پر ڈیوٹی 49 فیصد کردی گئی، اسی طرح امپورٹڈ کراکری پر ڈیوٹی 49 فیصد کردی گئی۔
حکومت نے امپورٹڈ گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی 70 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کردی ہے ، ساتھ امپورٹڈ موبائل فون ، الیکٹرونکس کے سامان ، امپورٹڈ برانڈڈ جوتے ، کپڑے اور میک اپ کا سامان بھی مہنگا کردیا گیا ہے۔









