سیلاب کی تباہ کاریاں: کیا حکومت اپنے معاشی اہداف حاصل کرپائے گی؟

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مزید مالی پریشانیوں سے بچنے کے لیے وفاقی حکومت کو اپنے معاشی اہداف پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

پاکستان بھر میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا تجزیہ کرنے کے بعد ماہرین اقتصادیات نے سوال اٹھایا کہ کیا وزارت خزانہ اپنے معاشی اعشاریوں کے اہداف کو حاصل کر پائے گی۔

وزارت خزانہ کی ایک دستاویزی رپورٹ سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں نے حکومت کو جی ڈی پی کے اہداف پر نظرثانی پر مجبور کردیا ہے ، جوکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) طے کردہ اہداف سے مختلف ہوں گے۔

موجودہ سیلابی صورتحال میں جی ڈی پی کی شرح 2.3 فیصد تک رہنے کی امید ہے جبکہ آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان کی 2023 کی ترقی شرح 3.5 فیصد تک ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بھارتیوں نے لندن میں جائیداد خریدنے میں انگریزوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

اسٹیٹ بینک اور مفتاح اسماعیل کی پالیسیز آپس میں میل نہیں کھاتی، ایف پی سی سی آئی

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2022 کے سیلاب سے اب 9.3 بلین ڈالر یا اس سے زیادہ نقصان ہو چکا ہے ، سیلاب نے زراعت کے شعبے کو ہلاکر رکھا دیا ہے۔

حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب نے سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ زرعی شعبے کی ترقی 3.9 فیصد کے سالانہ منصوبے سے 0.7 فیصد کم ہونے کی توقع ہے۔

صنعتی شعبے کی شرح نمو 5.9 فیصد کے سالانہ سے کم ہو کر 1.9 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ خدمات کے شعبے میں ترقی کی شرح نمو 5.1 فیصد کے مقابلے میں 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

وزارت خزانہ نے اپنے تجزیے میں مزید لکھا ہے کہ موجودہ صورتحال میں افراط زر پر دباؤ جاری رہے گا جب کہ مواصلاتی نظام کی تباہی کی وجہ سے ترسیل بھی شدید متاثر ہو سکتی ہیں ۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض کی منظوری اور دوست ممالک سے ملنے والی امداد کے باوجود بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے معاشی پریشانی برقرار رہ سکتی ہے۔ دوست ممالک کی مدد سے لیکویڈیٹی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

چند روز قبل وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا تھا کہ رواں مالی سال میں مہنگائی کی شرح 15 فیصد رہے گی جب کہ پرتعیش اشیاء کی درآمد پر طویل عرصے تک پابندی لگانا ناگزیر تھا۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھاکہ "میں ایک ایسا پاکستان دیکھنا چاہتا ہوں جو اپنے وسائل میں رہتا ہوئے آگے بڑھے۔ ایک سال میں کچھ نہیں ہوسکتا مگر ہم شروع تو کرسکتے ہیں۔”

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا پاکستان میں اب تک تاریخی سیلاب کے نتیجے 10 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے ، جس سے مسائل مزید بڑھ گئے ہیں ، جبکہ سیاسی انتشار اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پہلے سے موجود تھے۔

ایک ہفتہ قبل آئی ایم ایف نے پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کے لیے 1.16 بلین ڈالر قرض کی قسط جاری کی تھی ، تاکہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا جاسکے۔

قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان میں مجموعی طور پر 9 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی نوید سنائی ہے ۔

مفتاح اسماعیل نے کہا ہے انہیں توقع ہے کہ درج ذیل سرکاری کمپنیوں میں 1 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری تقریباً ایک ماہ میں مکمل کرلیں گی۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ مال سال 2022-23 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو 3.5 فیصد مقرر کی ہے جو 5 فیصد کے ابتدائیہ سے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ افراط زر اس وقت 47 سالہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر جو مالی سال کے وسط میں 15 فیصد تک آجائے گی۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا پاکستانی برآمدات کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل مصنوعات پر ریلائی کرتا ہے ، جبکہ سیلاب میں کپاس کی فصل کا بڑا حصہ پانی میں بہہ گیا ہے ۔ حکومت ٹیکسٹائل انڈسٹری کو اتنی ہی روئی درآمد کرنے کی اجازت دے گی جتنی اسے انڈسٹری کو رن دینے کی ضرورت ہوگی۔

ملک میں ٹماٹر اور پیاز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے ایران ، افغانستان اور ترقی سے مذکورہ اشیاء کی درآمد کی اجازت دے دی ہے ، کیونکہ ان کی کمی کی وجہ سے قیمتوں بےپناہ اضافہ ہو گیا تھا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مزید مالی پریشانیوں سے بچنے کے لیے وفاقی حکومت کو اپنے معاشی اہداف پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

متعلقہ تحاریر