پاکستانی روپے کی بے قدری کا رجحان، اوپن مارکیٹ میں ڈالرمزید 3 روپے مہنگا ہوگیا

آئی ایم ایف سے قرض کی قسط ملنے اور دوست ممالک کے تعاون کے باوجود رواں ہفتے پاکستانی روپے کی بے قدری کا رجحان جاری ہے، انٹر بینک میں ایک ڈالر ایک روپے 56 پیسے مہنگا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر کی قدر 3 روپے اضافہ ہوا

کاروباری ہفتے کے دوسرے روز بھی پاکستانی روپے کی بے قدری کا رجحان جاری رہا۔ انٹربینک میں ایک ڈالر ایک روپے 56 پیسے مہنگا ہوا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر کی قدر 3 روپے مزید بڑھ گئی ۔

امریکی ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے کی گراوٹ کا سلسلہ  آج بھی جاری ہے۔ انٹر بینک  اور اوپن مارکیٹ میں آج کاروبار کے دوران روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافہ  دیکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

اگست کے مہینے میں پاکستانیوں نے آر ڈی اے میں 18 کروڑ 70 لاکھ ڈالر جمع کرائے

اسٹیٹ بینک پاکستان کے اعداد و  شمار کے مطابق انٹربینک میں آج ایک ڈالر  ایک روپے 56 پیسے مہنگا ہوا جس کے بعد ایک ڈالر 221 روپے 42 پیسے کا ہوگیا ہے ۔

فاریکس ایسوسی ایشن  کے مطابق اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ آج اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر 3 روپے مہنگا ہوکر  233 روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے ۔

یاد رہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف )سے قرض کی قسط ملنے اور دوست ممالک کے تعاون کے باوجود رواں ہفتے پاکستانی روپے پر دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔

معاشی کے امور کے تجزیہ نگاروں کے مطابق  ڈالر کی قیمت میں اضافے کی ذمہ داری کمرشل بینکس پر عائد ہوتی ہے تاہم کمرشل بینکس اس کی  ذمہ داری اسٹیٹ بینک ڈالتے ہیں ۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے حکام کہتے ہیں کرنسی ایکسچینج والے ایک محدود  وسائل کی بنیاد پر کاروبار کرتے  ہیں۔ ہمارے پاس اتنے ڈالرز نہیں ہوتے  ہیں کہ ہم اس کی قیمت پر اثر انداز ہوسکیں۔

متعلقہ تحاریر