انٹربینک میں ڈالر 2.76 روپے مہنگا ہوکر 228.18 پر بند
کرنسی ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ڈالر کی طلب اور رسد میں مماثلت کی وجہ سے روپیہ مسلسل دباؤ میں ہے۔

پاکستانی روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور جمعے کے روز روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مزید 2 روپے 76 پیسے مہنگا ہو گیا۔ ڈالر کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے ڈالر دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوطی پکڑ رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان روپیہ انٹربینک مارکیٹ میں 2.76 کی کمی کے بعد 228.18 پر بند ہوا، جو کہ گزشتہ روز 225.42 روپے پر بند ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
حکومتی درآمدی پالیسی: ایف پی سی سی آئی اور اپٹما کا تحفظات کا اظہار
وفاقی حکومت نے صارفین پر 95 ارب روپے کی بجلی گرانے کا پروگرام بنا لیا
رواں کاروباری ہفتے کے شروع سے اختتام تک پاکستان کرنسی کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں مجموعی طور پر 4.2 فیصد کمی واقع ہوئی جوکہ 9.21 روپے ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق دو ماہ قبل 28 جولائی کو ڈالر نے مقامی کرنسی کے مقابلے میں 239.37 روپے کو ٹچ کیا تھا۔
کرنسی ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ روپے پر دباؤ مارکیٹ میں ڈالر کی کمی کی وجہ سے ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے لگژری اشیا کی درآمد پر عائد پابندی کو ختم کرنے کے بعد ڈالر کی مانگ میں بےپناہ اضافہ ہو گیا ہے۔
کرنسی ڈیلرز کا مزید کہنا ہے کہ درآمدات میں اضافے کی وجہ سے ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے جبکہ برآمدات میں مطلوبہ ہدف حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ڈالر کی طلب اور رسد کا فرق ختم نہیں ہوپارہا۔
دوسری جانب عالمی سطح پر امریکی ڈالر دیگر چھ کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوط ہورہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ بن رہا ہے ، معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے ، سیلاب ، بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی ہورہی ہے۔
ابتدائی تخمینوں کے مطابق پاکستان میں شدید سیلاب سے معیشت کو 10 سے 12.5 بلین ڈالر تک کا نقصان پہنچا ہے، یہ ایسے وقت میں ہے جب حکومت پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں بھی بڑی حد تک کمی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔









