17 ستمبر بھی گزر گیا تیل کی قیمتوں پر نظرثانی نہ ہوسکی
وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان میں تاخیر سے یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ حکومت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو نہیں دینا چاہتی۔
وفاقی حکومت 17 دن بعد پیٹرول کی قیمتوں پر نظرثانی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کرپائی ہے ، جبکہ وزارت پیٹرولیم ہر 15 دن بعد قیمتوں کا جائزہ لینے کی پابند ہے۔
میڈیا کی ابتدائی رپورٹس کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل سے متعلق اعلان وزیر اعظم شہباز شریف کے غیرملکی دورے کے باعث مؤخر کیا گیا تھا ، کیونکہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ازبکستان گئے ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
ہفتہ وار مہنگائی میں معمولی کمی ، شرح 41.81 پر آ گئی
ملک بھر میں آٹے کے دام بڑھ گئے، نیا مسئلہ سر اٹھانے لگا
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے اعلان میں تاخیر سے عوام الناس میں شدید بےچینی پائی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر کمی کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی توقع کر رہے تھے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان میں تاخیر سے یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ حکومت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو نہیں دینا چاہتی۔
ازبکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے لندن روانہ ہو گئے۔ اس کے علاوہ وہ لندن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔
مختلف میڈیا چینلز پر چلنے والی خبروں کے مطابق حکومت کی جانب سے اتوار کی رات ( یعنی آج) کو پیٹرول کی نئی قیمت کا اعلان کرنے کا امکان ہے۔
ہفتے کے روز نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یا تو معمولی کمی کی جائے گی یا پھر 80 پیسے اضافہ کیا جاسکتا ہے تاہم حتمی فیصلہ اتوار کو کیا جائے گا۔
جیو نیوز کے پروگرام "نیا پاکستان” میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح نے کہا تھا کہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر نیچے گرے گا، تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت اس سارے پروسیس میں مداخلت نہیں کرے گی۔
وزیر خزانہ نے مہنگائی سے تنگ عوام کو یقین دلایا کہ اکتوبر تک بجلی کی قیمت میں کمی ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اگست اور ستمبر کے بلوں میں فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) سے 300 یونٹس تک استعمال کرنے والے صارفین کو مستثنیٰ قرار دے دیا تاہم اس کے بعد ایف سی اے چارج وصول کیے جانے سے متعلق فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان کو اکتوبر میں ایشیائی ترقیاتی بینک سے 1.5 بلین ڈالر ملنے کا امکان ہے جبکہ قطری سرمایہ کار مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پلانٹس، سولر پینلز اور اسٹاک ایکسچینج میں 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔









