پانچ ماہ میں ڈالر کی اونچی اڑان، ڈار صاحب بتائیں قصور وار کون؟
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ڈالر کی مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی میں 8 پرائیویٹ بینکس ملوث ہیں جن کے خلاف قوائدوضوابط کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ 200 روپے سے کم پر ڈالر کو لے کر آئیں گے ، روپے کی قدر میں کمی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پرائیویٹ بینکس بھی اس میں ملوث تھے تو کوئی تو ہوگا جو اس سارے نظام کو دیکھ رہا ہوگا ، وہ وزیراعظم اور سابق وزیر خزانہ کی ذمہ داری تھی ، اب بتایا جائے کہ کارروائی کس کے خلاف ہو گی۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر کو مصنوعی طریقے سے کم کیا گیا ، ڈالر کی قدر میں اضافہ کیا گیا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنی پالیسیز کی مدد سے ڈالر کی قیمت 200 سے نیچے لے آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
اسحاق ڈار کا ڈالر اور پیٹرول 170 روپے تک لانے کا دعویٰ
کیا اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف سے کی ڈیل توڑ دی؟ مفتاح اسماعیل کا سوال
گذشتہ رات جیو نیوز کے پروگرام "کیپیٹل ٹاک” میں گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ "پاکستانی روپے کی اصل قدر ڈالر کے مقابلے میں 200 سے کم ہے اور اسے نیچے لایا جائے گا کیونکہ اس وقت اس کی قدر کم ہے۔”
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر ڈالر مضبوط ہو رہا ہے تاہم پاکستان میں اسے اس کی اصل سطح پر لائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت عوام کی تکالیف سے آگاہ ہے اور عوام سے کیا گیا ہر وعدہ پورا کیا جائے گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت ماضی کی طرح ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا "میں عمران خان اور ان کی پوری ٹیم کے اعصاب پر سوار ہوں اور وہ جانتے ہیں کہ اگر ملکی معیشت ٹھیک ہو گئی تو انہیں سیاست میں جگہ نہیں ملے گی۔ ہم کارکردگی کے ذریعے ان کی دوبارہ جیتنے کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیں گے۔”
دو روز قبل وزیر خزانہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ روپے کی قدر کو کم کرنے میں پاکستان کے 8 پرائیویٹ بینکس ملوث ہیں ، ان کے خلاف قوائدوضوابط کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جب گئی تو ڈالر کی قیمت 182 روپے تھی جبکہ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے آنے کے بعد ڈالر تقریباً 250 کے ہندسے کے پاس پہنچ گیا تھا۔
پانچ ماہ کے اندر ڈالر کی قیمت میں تقریباً 67 روپے اضافہ ہوا جس کی وجہ سے غیرملکی قرضوں میں اربوں روپے کا اضافہ ہوا۔ مہنگائی کی شرح 16 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد تک چلے گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار یہ بتائیں کہ آپ کی حکومت کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ڈالر 182 سے 250 تک پہنچا دیا تھا ، اب آپ کہہ رہے ہیں کہ روپے کی قدر کو ڈی ویلیو کرنے میں 8 بینکس ملوث تھے ، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پھر آپ نے یہ بھی بتادیا کہ 57 ارب روپے کا فائدہ ہوا بینکس کو۔ آپ یہ بھی نہیں بتا رہے کہ وہ بینکس کون کون سے ہیں ؟ اور کس بینک کو کتنا فائدہ ہوا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بینکس اس سارے دھندے میں ملوث تھے تو وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کیا کررہے تھے ، کیا ان کی ذمہ داری نہیں تھی کہ اس سب پر نظر رکھتے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہمارا ایک معصوم سا سوال وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے کیا یہ کارروائی صرف بینکس کے خلاف ہوگی یا پھر وزیراعظم اور مفتاح اسماعیل کے خلاف بھی ہوگی۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اتنا بڑا ریکٹ کام کرتا رہا اور حکومتی عہدیداران آنکھیں موند کر سوتے رہے۔









