ایشیائی ترقیاتی بینک کا 2.5 ارب ڈالر کی فلڈ ریلیف سپورٹ فراہم کرنیکا اعلان
سیلاب متاثرین کے لیے رقم کی منظوری رواں ماہ بورڈ سے لی جائےگی،ایشیائی ترقیاتی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر کی وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات میں گفتگو

مون سون کی بدترین بارشوں اور سیلاب کے بعد ملک کی ڈوبتی معیشت کو مضبوط سہارا مل گیا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو 2.3 سے 2.5 ارب ڈالر کی فلڈ ریلیف سپورٹ فراہم کرنے کا اعلان کردیا جس میں BRACE پروگرام کے لیے 1.5 ارب ڈالرکا قرض بھی شامل ہے۔
اس بات کی یقین دہانی ایشیائی ترقیاتی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر یونگ ژی نے بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ اور محصولات محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کے دوران کرائی۔
یہ بھی پڑھیے
عالمی مالیاتی اداروں سے مزید امداد کی خبروں سے ڈالر مزید نیچے آگیا
اسحاق ڈار نے گھمبیر مسائل کا شکار اپٹما کو اشتہار کی اشاعت سے روک دیا
انہوں نے کہا کہ پروگرام کو اس ماہ کے دوران منظوری کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کے بورڈ کے سامنے رکھا جائے گا۔ایشیائی ترقیاتی بینک کےکنٹری ڈائریکٹر نے وزیر خزانہ کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر اظہار ہمدردی کیا۔
Finance Minister Senator Mohammad Ishaq Dar meets Mr. Yong Ye, Country Director, ADB,discussed progress on ongoing portfolio. FM appreciated ADB’s support particularly the forthcoming loan of US$ 1.5 Bn under BRACE program and appreciated ADB’s flood related commitments. pic.twitter.com/TBWEryJV8F
— Ministry of Finance (@FinMinistryPak) October 5, 2022
وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ان کا خیرمقدم کیا اور پاکستان میں پائیدار ترقی کے فروغ میں اے ڈی بی کے کردار اور تعاون کو سراہا۔انہوں نے وفد کو ملک میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی اور پاکستان کی معیشت پر پڑنے والے اثرات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنے عملی پالیسی فیصلوں سے معیشت کو درست سمت میں گامزن کیا ہے۔
انہوں نے سماجی تحفظ، خوراک کی حفاظت اور توانائی کے شعبوں سمیت مختلف شعبوں میں اے ڈی بی کے جاری اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔وفد کو بتایا گیا کہ کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی برائے پاکستان 2021-25 حکومت پاکستان کے وژن کے مطابق ہے۔
وزیر خزانہ نے اے ڈی بی کے وفد کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور انہیں حکومت کی جانب سے جاری اور مستقبل کے پروگراموں پر تیزی سے عملدرآمد کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔









