سیلاب سے متاثرہ 90 لاکھ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے ، عالمی بینک

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ مالی سال 2023 کے درمیان پاکستان میں افراط زر کی شرح 23 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔

عالمی بینک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں ، مون سون کی بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ 6 سے 9 ملین کے درمیان لوگ پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے۔

رواں سال مون سون بارشوں اور سیلاب سے پاکستان نے زبردست تباہی مچائی ہے جس کے نتیجے میں 1700 سے زائد افراد جاں بحق ، 20 لاکھ سے زائد گھر تباہ اور ایک تہائی حصے پر سیلابی پانی کھڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایران میں احتجاج میں مزید شدت، امام خمینی کی تصاویر اسکولز سے ہٹائی جانے لگیں

سابق پولیس اہلکار نے چائلڈ ڈے کیئرسینٹر میں فائرنگ کرکے 34 معصوم جانیں لے لیں

رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب سے 80 لاکھ سے زائد خاندان بے گھر ہو گئے ہیں ۔ لوگ جھیلوں کے قریب خیمہ بستیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ سیلاب نے ان کے گھروں کا سامان اور ذریعہ معاش چھین لیا ہے۔

ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب کے براہ راست نتیجے کے طور پر پاکستان میں غربت کی شرح 2.5 سے 4 فیصد کے درمیان بڑھنے کی توقع ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملازمتوں ختم ہونے، مویشیوں کے مرنے سے ، فصلوں کے تباہ ہونے سے ، مکانات کے گرنے سے اور اسکولوں کی بندش کے ساتھ ساتھ بیماریوں کے پھیلاؤ اور خوراک کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے 6لاکھ سے 90 لاکھ لوگ غربت میں چلے جائیں گے۔

ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس منفیت کو ختم کرنے میں بہت زیادہ وقت درکار ہوگا۔ سماجی اور اقتصادی ڈھانچے کو راہ راست پر لانے میں ایک عرصہ لگ جائے گا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 220 ملین افراد پر مشتمل پاکستان میں تقریباً 20 فیصد پہلے ہی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

سیلاب کی ابتداء سے قبل ہی پاکستانی معیشت اور خزانے کا برا حال تھا ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور زرمبادلہ کے کم ہوتے ہوئے ذخائر کی وجہ سے افراط زر اپنی انتہا پر تھا۔ لوگ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ مالی سال 2023 کے درمیان پاکستان میں افراط زر کی شرح 23 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔

پاکستان کا عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسز اور موسمیاتی تبدیلیوں میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے ، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید موسم کے خطرے سے دوچار ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان سرفہرست ہے۔

ایک معتبر تحقیق میں کہا گیا ہے کہ انسانوں کی اپنی پیداکردہ گیسز کے اخراج سے ہر سال موسمیاتی تبدیلیاں شدید سے شدیدتر ہوتی جارہی ہیں ، اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے نقصان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ اور ان تمام ممالک صنعتی ممالک سے امداد کی اپیل کی ہے جو کاربن پیدا کرنے والے میں پیش پیش ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کی وزیر شیری رحمان نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ "ہمارے پاس اپنی معیشت کو ایک محرک پیکج دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، اور لوگوں کو ان کی ضرورت کے مطابق پائیدار آمدنی ملے گی۔”

ان کا کہنا تھا "ہم اب بھی زندگیاں بچانے کے لیے ایک طویل اور انتھک جدوجہد میں مصروف ہیں۔ "

متعلقہ تحاریر