اسٹیٹ بینک کا شرح سود 15 فیصد تک برقرار رکھنے کا فیصلہ
اسٹیٹ بینک نے اپنے بیان میں مزید کہنا ہے کہ سیلاب کے تناظر میں موجودہ مانیٹری پالیسی ترقی کو برقرار رکھنے میں توازن قائم کریگا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے رواں مالی سال کی تیسری مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا، مرکزی بینک کے مطابق شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ 15 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیر کے روز جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 23 میں جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً 2 فیصد اور افراط زر کی شرح 18-20 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیے
وزیر خزانہ کا قرضوں کی ری شیڈولنگ کے لئے پیرس کلب نہ جانے کا عندیہ
پاکستانیوں کی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں عدم دلچسپی، ستمبر میں محض17 کروڑ ڈالر آئے
مرکزی بینک کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) نے گزشتہ اجلاس کے بعد اس بات کا جائزہ لیا تھا کہ اقتصادی سرگرمیوں میں مسلسل کمی کی وجہ سے افراط زر اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی ہوئی ہے۔
مرکزی بینک کی جانب سےجاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ معیشت کی گرتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر گزشتہ مانیٹری پالیسی میں بھی شرح سود میں تیدیلی نہیں کی گئی تھی
اسٹیٹ بینک کے مطابق اقتصادی سرگرمیوں میں کمی کی بڑی وجہ مہنگائی میں اضافہ کا سبب ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جاری کھاتوں کے خساروں میں بھی کمی آرہی ہے ، تاہم حالیہ سیلاب نے میکرو اکنامک مںظر نامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ سیلاب کے اثرات کا مکمل جائزہ لیا جارہا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے اپنے بیان میں مزید کہنا ہے کہ سیلاب کے تناظر میں موجودہ مانیٹری پالیسی ترقی کو برقرار رکھنے میں توازن قائم کریگا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق اشیائے خوردونوش کی رسد میں کمی سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
مرکزی بینک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سیلاب اور عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے معاشی ترقی کے امکانات کمزور ہوگئے ہیں۔









