آئی ایم ایف کے دورہ منسوخی کی کیا وجہ بنی؟ ڈار صاحب کی فاش غلطیاں
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی یوٹرن پالیسیز کی وجہ سے آئی ایم ایف ان پر اعتماد نہیں کر رہا اور مذاکرات کے لیے پاکستان آنے کو تیار نہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) وفاقی وزیر خزانہ کی پالیسز سے ناراض، اسحاق ڈار نے مفتاح اسماعیل کی محنت پر پانی پھیر دیا، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات ایک بار پر تاخیر کا شکار ہوگئے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان موجودہ قرض پروگرام کے نویں جائزہ کے لیے مذاکرات ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہوگئے ہیں۔ 4 نومبر کو شروع ہونے والا مذاکرات اب 15 نومبر کو بھی شروع نہیں ہوسکیں گے اور 21 نومبر تک بھی ان کا آغاز اب مشکل لگ رہا۔
یہ بھی پڑھیے
اکتوبرمیں گزشتہ سال کے مقابلے میں ترسیلات زر میں 15فیصد کمی
ہفتہ وار افراط زر میں 0.74 فیصد کا اضافہ ریکارڈ، رپورٹ
ملک کے مقتدر معاشی حلقوں نے نیوز 360 کو بتایا کہ ہے کہ موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی معاشی پالیسز پر آئی ایم ایف کا اعتماد نہیں رہا اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جو اعتماد بحال کیا تھا، اسحاق ڈار کی پھرتیوں نے اس اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے اور ڈاکٹر مفتاح اسماعیل کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل بھی کئی مقامات پر اسحاق ڈار کو پالیسیز میں یوٹرن لینے کے نقصانات اور خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
عہدہ حاصل کرنے سے پہلے لندن میں قیام کے دوران اسحاق ڈار مسلسل مفتاح اسماعیل کی آئی ایم ایف بارے میں پالیسیز پر تنقید کرتے رہے اور بار بار کہتے رہے کہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف پروگرام میں رہ کر بھی ریلیف کے اقدامات کر سکتے ہیں۔ اس پر اس وقت کے وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے دبے الفاظ میں اسحاق ڈار کو یہ پیغام پہنچایا کہ آئی ایم ایف کے مشن برائے پاکستان کے سربراہ نیتھن پورٹر بار بار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جوں ہی پاکستان کو قرض پروگرام کی قسط ملے گی ، پاکستان سبسڈی دینے میں فراغ دلی کا مظاہرہ کرے گا اور مالیاتی خسارہ بڑھا لے گا۔
اسی طرح 15 ستمبر 2022 کو پیٹرول سستا کرنے کا فیصلہ 21 ستمبر 2022 تک موخر کیا گیا تھا اور اسی دوران پیٹرول 10 روپے سستا کرنے کی بجائے 1.45 پیسے مہنگا کردیا تھا ، اور اسے 235 روپے 98 پیسے فی لٹر سے بڑھا کر 237 روپے 43 پیسے فی لٹر کردیا تھا۔
اس موقع پر ڈیزل 4 روپے سستا کرنے کی بجائے کسی ردوبدل کے بغیر 245 روپے 73 پر برقرار رکھا تھا۔
واضح رہے کہ اس موقع پر اس وقت کے وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اگر پیٹرول سستا کرنے کا فیصلہ کیا تو آئی ایم ایف کا اعتماد ختم ہوجائے گا۔
ڈاکٹر مفتاح اسماعیل اس فیصلے کے ایک ہفتے بعد وزارت خزانہ کا قلمدان ان سے چھین کر اسحاق ڈار کو دیا گیا تھا۔ اسحاق ڈار نے آتے ہی یکم اکتوبر کو پیٹرول 12 روپے 63 پیسے سستا کرکے 224 روپے 80 پیسے فی لٹر اور ڈیزل 12 روپے 13 پیسے فی لٹر سستا کرکے 235 روپے 30 پیسے فی لٹر کرنے کا اعلان بڑے فخریہ انداز میں ایک نیوز کانفرنس میں کیا تھا۔
اسحاق ڈار کا یہی اعلان آئی ایم ایف کو کھٹک رہا تھا اور اس دن سے آئی ایم ایف نے آنکھیں پھیرنا شروع کردی تھیں ، اور اب صورت حال ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا سمیت پوری وزارت خزانہ آئی ایم ایف سے مذاکرات میں تاخیر کی وجہ سیلاب کے بعد معاشی نقصانات کا جائزہ قرار دے رہے ہیں۔
ملک کے مقتدر معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کے یکم اکتوبر 2022 کے پیٹرولیم مصنوعات سستی کرنے کے اعلان سے اب تک آئی ایم ایف پاکستان سے کچا کچا چل رہا ہے اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی یوٹرن پالیسیز کی وجہ سے ان پر اعتماد نہیں کر رہا اور مذاکرات کے لیے پاکستان آنے کو تیار نہیں۔









