پاکستان 2دسمبر کو ایک ارب ڈالر کے عالمی بانڈ کی ادائیگی کردیگا، گورنر اسٹیٹ بینک
بانڈ کی واپسی کیلیے کثیر جہتی اور دوطرفہ ذرائع سے فنڈز کا حصول یقینی بنایا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ادائیگی سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر متاثر نہ ہوں، گورنر اسٹیٹ بینک

گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان مقررہ تاریخ سے تین دن پہلے 2 دسمبر کو ایک ارب ڈالر کے بین الاقوامی بانڈ کی ادائیگی کردے گا۔
معاشی بحران اور 1700 سے زیادہ اموات کا موجب بننے والے تباہ کن سیلاب سے بحالی کے دوران پاکستان کی بیرونی مالیاتی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کی صلاحیت کے بارے میں غیریقینی صورتحال بڑھتی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
مہنگائی 30.32فیصدتک جاپہنچی،کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں زبردست اضافہ
حکومت اور شوگر ملز مالکان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بھی ناکام
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے جمعے کو ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ 1.08ارب ڈالر کے بانڈ کی واپسی کی مدت 5 دسمبر کو پوری ہورہی ہے، بانڈ کی واپسی کیلیے کثیر جہتی اور دوطرفہ ذرائع سے فنڈز کا حصول یقینی بنایا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ادائیگی سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر متاثر نہ ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک سے منگل کو 500 ملین ڈالر کی فوری آمد متوقع ہے۔
18 نومبر تک مرکزی بینک کے پاس پاکستان کے ذخائر 7.8 ارب ڈالر تھے جو ایک ماہ کی درآمدات کو پورا کرنے کے لیے بمشکل کافی تھے۔جمیل احمد نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر کی سطح متوقع آمد اور دوست ممالک سے قرضوں کے رول اوور کی مسلسل وصولی پر منحصر ہوگی، لیکن انہیں یقین ہے کہ جون 2023 میں مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر کے اعداد و شمار بہت بلندہوں گے۔
انہوں نے بریفنگ میں بتایا کہ انہیں توقع ہے کہ بین الاقوامی قرض دہندگان کی طرف سے رقوم کی وجہ سے بیرونی فنانسنگ کی ضروریات وقت پر پوری ہوں گی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ نومبر میں 1.8 ارب ڈالر کی ادائیگی کے باوجود ذخائر مستحکم رہے۔
آئی ایم ایف نے اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ پاکستان کے تباہ کن سیلاب سے بحالی کے منصوبے کو بروقت حتمی شکل دینا کثیرالجہتی اور دوطرفہ شراکت داروں کی طرف سے بات چیت اور جاری مالی امداد کے لیے ضروری ہے۔









