آئی ایم ایف کے جائزہ وفد کا دورہ تاخیر کا شکار: پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے خطرات بڑھ گئے
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے نواں جائزہ اجلاس بروقت نہ ہوا تو پاکستانی معیشت کے لیے مزید مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا اور بیرونی ادائیگیوں کو توازن بھی بگڑ جائے گا۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان خلیج بڑھنے لگی، وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے، آئی ایم ایف کا ڈو مور کا مطالبہ بڑھ گیا۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 9ویں جائزہ کے لیے مذاکرات کا اب تک باضابطہ آغاز نہیں ہو سکا ہے۔ 26 اکتوبر 2022 کو شروع ہونے والے مذاکرات ، 3 نومبر پھر 11 نومبر پھر 15 نومبر پھر 21 نومبر کو ہونا تھے اب 29 نومبر کو بھی ہوتے دکھائی نہیں دے رہے اور اب تک تعطل کا شکار ہیں ، ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے مطمئن نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے
مہنگائی 30.32فیصدتک جاپہنچی،کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں زبردست اضافہ
بدترین معاشی صورتحال: شرح سود میں ایک فیصد اضافہ، زرمبادلہ میں 134ملین ڈالر کی کمی
ملک کے مقتدر معاشی حلقوں نے نیوز 360 کو بتایا کہ آئی ایم ایف وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بلند بانگ دعوے سے مرغوب نہیں ہوا ہے اور اس نے صاف صاف وزارت خزانہ اور ایف بی آر سے اپنے مطالبات پر عملدرآمد پر زور دیا ہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 26 ستمبر 2022 کو وزیر خزانہ کا حلف اٹھایا تھا اور یکم اکتوبر 2022 کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور ڈالر کو 200 روپے سے نیچے لانے کا دعویٰ کیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ پٹرول سستا کرکے بھی آئی ایم ایف کو راضی کرلیں گے اور وہ آئی ایم ایف کو ہینڈل کرنا جانتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وزیر خزانہ کے اس رویے سے غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہوگیا ہے اور اس کا پاکستانی حکام پر سے اعتماد ایک بار پھر اٹھ گیا ہے۔ اس اعتماد کو سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کسی حد تک بحال کیا تھا۔
اب صورت حال ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد نویں جائزہ مذاکرات سے پہلے پاکستان سے مختلف وعدوں پر عملدرآمد چاہتا ہے اور آئی ایم ایف وزارت خزانہ سے اخراجات کے بڑھنے اور ایف بی آر کی کارکردگی سے ٹیکس آمدن مزید نہ بڑھنے پر مطمئن نہیں۔
ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ سے اخراجات مزید کم کرنے کا مطالبہ کردیا ہے اور سبسڈیز کو محدود کرنے اور توانائی کے شعبے میں نقصانات کم کرنے کےلیے روڈ میپ پر سختی سے عملدرآمد کا مطالبہ کردیا ہے۔
ایف بی آر سے آمدن مزید بڑھانے کا مطالبہ کر دیا اور کہا گیا ہے کہ مہنگائی 30 فیصد بڑھنے سے معیشت کا حجم یعنی جی ڈی پی 4 فیصد بڑھنے سے ٹیکس آمدن میں باآسانی 30 سے 34 فیصد اضافہ ہوجاتا ہے تو ایسے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی کیا ہے۔
آئی ایم ایف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے 600 ارب روپے مزید جمع کرنے کےلیے کوششیں کرے تاکہ معیشت میں ٹیکسوں کا حصہ یعنی ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 8.5 فیصد سے بڑھ کر 10.5 فیصد یا 11 فیصد تک پہنچ جائے۔
ماہرین معاشیات نے نیوز 360 کو بتایا ہے کہ آئی ایم ایف سے نواں جائزہ اجلاس بروقت نہ ہونا معیشت کے لیے خطرات کا باعث بن سکتا ہے اور اگر یہ مذاکرات مزید تاخیر کا شکار ہوگئے تو پاکستان کے لیے آئی ایم ایف قرض کی اگلی قسط تاخیر کا شکار ہوجائے گی اور پاکستان کےلیے بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ خطرناک حد تک بڑھ جائے گا۔









