تنظیم تاجران پاکستان نے حکومت کے کاروبار رات جلد بند کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا
صدر تنظیم تاجران محمد کاشف چوہدری کا کہنا ہے حکومت نمائشی اقدامات کی بجائے معاشی بحران کے حل پر توجہ دے ، ماضی میں بھی ایسے اقدامات سے توانائی کی کوئی بچت نہیں ہوئی تھی۔
مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے مارکیٹیں اور ریسٹورنٹس رات 8 بجے اور شادی ہالز رات 10 بجے بند کرنے کے وفاقی کابینہ کے فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا۔
مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے مارکیٹیں اور ریسٹورینٹ رات 8 بجے اور شادی ہالز رات 10 بجے بند کرنے کے وفاقی کابینہ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیے
ایف بی آر کی آئی ایم ایف کو نئے ٹیکس لگائے بغیر ہدف حاصل کرنے کی یقین دہانی
پانچ ماہ میں بجلی کے پیداواری ایندھن کی لاگت میں 35 فیصد اضافہ ہوگیا
صدرمرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بغیر مشاورت مارکیٹس رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ ناقابل عمل ہے ، ماضی میں بھی کیے گئے ایسے فیصلوں سے توانائی کی بچت نہیں ہو سکی۔
محمد کاشف چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت نمائشی اقدامات کی بجائے معاشی بحران کے حل پر توجہ دے۔
انہوں نے کہا کہ بدترین معاشی حالات میں کاروبار جلد بند کرنا کروڑوں خاندانوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے حکومت اگر سنجیدہ ہے تو سرکاری دفاتر کے اوقات کار تبدیل کرے اور ایوان صدر ، وزیراعظم ہاوس سمیت تمام سرکاری دفاتر میں بجلی کے ضیاع کو روکا جائے ، تمام سڑکوں ، پارکوں ، تفریحی مقامات پر لگی ہزاروں لائٹس کو بند کیا جائے۔
محمد کاشف چوہدری نے کہا کہ حکومت معاشی بحالی کیلئے تاجر تنظیموں سے مشاورت کرے اور وفاق ، صوبوں کی لڑائی میں تاجروں کو تختہ مشق بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی کے خاتمے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے کہا ہے کہ ملک کے معاشی حالا ت پہلے ہی خراب ہیں اور حکومتی پالیسیز کی وجہ سے کاروبار بند ہو رہے ہیں تاجر حکومت کے اس فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت فوری اس فیصلے کو واپس لے۔









