1.23ارب ڈالر کی کمی کے بعد زر مبادلہ کے ذخائر 9 سال کی کم ترین سطح پر آگئے
زرمبادلہ ذخائر میں کمی غیر ملکی قرض کی ادائیگی کی وجہ سے ہوئی،کمرشل بینکوں کے پاس 6جنوری تک 5 ارب 84 کروڑ 46 لاکھ ڈالر رہے، ملک کے مجموعی ذخائر 10.188 ارب ڈالر رہ گئے، اسٹیٹ بینک

پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں مزید ایک ارب 23 کروڑ ڈالر کی کمی ہوگئی۔ اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ کے ذخائر 8 سال 11 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں کمی غیر ملکی قرض کی ادائیگی کی وجہ سے ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے
گزشتہ سال کی نسبت رواں سال گاڑیوں کی فروخت میں 44 فیصد کمی کا رجحان
حکومت کی غیر واضح پالیسی سے تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑرہا ہے، زبیر موتی والا
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ 6 جنوری تک زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب 18کروڑ 78 لاکھ ڈالر رہے، اسٹیٹ بینک کے پاس 4 ارب 34 کروڑ 32 لاکھ ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر رہے۔
Total liquid foreign #reserves held by the country stood at US$ 10.19 billion as of January 06, 2023.
For details https://t.co/WpSgomnKT3 pic.twitter.com/l9Syz9T1bh
— SBP (@StateBank_Pak) January 12, 2023
اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس 6 جنوری تک 5 ارب 84 کروڑ 46 لاکھ ڈالر رہے۔ ملک کے مجموعی ذخائر 1.234 ارب ڈالر کم ہو کر 10.188 ارب ڈالر رہ گئے۔
ایک ارب23 کروڑ ڈالر کی کمی کےبعد اسٹیٹ بینک کے ذخائر تقریباً 8 سال 11 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئے۔آخری بار 28 فروری 2014 کو ذخائر 3.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے۔









