ہاروی وائن سٹائن پر ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد

سوشل میڈیا پر ہاروی وائن سٹائن کے خلاف الزامات سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں می ٹو مہم کا آغاز ہوا تھا۔

عدالت نے ہاروی وائن سٹائن پر ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا ہے۔ رقم کو ان 37 خواتین میں تقسیم کرنے کا فیصلہ سنایا گیا ہے جنہوں نے پروڈیوسر پر جنسی ہراسگی کا مقدمہ درج کرایا تھا۔

ہالی ووڈ میں جنسی ہراسگی پر سزا پانے والے پروڈیوسر مزید مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ عدالت نے ہاروی وائن سٹائن پر ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کا جرمانہ عائد کردیا ہے۔

یہ رقم ان 37 خواتین میں تقسیم کی جائے گی جنہوں نے پروڈیوسر پر جنسی ہراسگی کا مقدمہ کیا تھا۔ تاہم 8 خواتین نے رقم لینے سے انکار کرتے ہوئے ہاروی وائن سٹائن پر الگ سے مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اُن پر سال 2017 میں جنسی ہراسگی کا الزام لگا تھا جس کے بعد ہالی ووڈ کی کئی اداکاراؤں نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ یہاں سے کامیاب ترین پروڈیوسرز میں شمار کیے جانے والے ہاروی وائن سٹائن کی ناکامی کا سفر شروع ہوا تھا۔

سال 2018 اُن کے لیے مشکل ترین سال رہا۔ اس سال انہیں پروڈکشن کمپنی سے بےدخل کردیا گیا اور ہالی ووڈ نے اُن سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ یہی نہیں چند ماہ بعد پولیس نے انہیں گرفتار بھی کرلیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

نیٹ فلکس پر توہین آمیز مواد دکھانے کی وجہ سے پاکستان میں پابندی کا خطرہ

سوشل میڈیا پر ہاروی کے خلاف الزامات سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں ’می ٹو مہم‘ کا آغاز ہوا۔ گزشتہ برس مارچ میں اُنہیں 23 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہالی ووڈ کی اداکارائیں سالوں تک جنسی ہراسگی کا سامنا کرتی رہیں لیکن ہاروی وائن سٹائن کے عروج کے وقت کسی ایک خاتون نے بھی ان کے خلاف مقدمہ تو دور شکایت تک درج نہیں کرائی اور اُن کے ساتھ کام کرتی رہیں۔

واضح رہے کہ وائن سٹائن ہالی ووڈ کو متعدد کامیاب فلمیں دے چکے ہیں جن میں دی کرائنگ گیم، پلپ فیکشن اور شیکسپیئر ان لوّ شامل ہیں۔

متعلقہ تحاریر