خیبرپختونخوا میں سینیما گھروں پر تالے لاکھوں کا نقصان

کام نہ ہونے کی وجہ سے فنکار بھی معاشی مسائل سے دوچار ہیں۔

پاکستان میں کرونا نے جہاں مختلف شعبوں کو متاثر کیا ہے وہیں سینیما سے وابستہ افراد بھی شدید مالی بحران سے دوچار ہیں۔ صوبے خیبرپختونخوا میں سینیما گھروں کا کاروبار گذشتہ برس سے مسلسل بندش کا شکار ہے جس کی وجہ سے سینیما مالکان کو لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

پشاور میں بیشتر سینیما بند ہیں جبکہ اکثر مالکان نے سینیما کی عمارتوں کو گرا کر پلازہ کی تعمیر کا کام شروع کردیا ہے۔ صوبے کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو پشاور میں 3 یا 4 سینیما ہی اپنی اصل شکل میں موجود ہیں جبکہ دیگر اضلاع میں 12 سے 13 سینیما ایسے ہیں جو پچھلے ایک سال سے بند ہیں۔ یہ وہی سینیما گھر ہیں جو کبھی تماش بینوں سے بھرے ہوتے تھے۔

سینیما مالکان کے مطابق کاروبار کی بندش اور کمرشل ٹیکس نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ مالکان کو بند سینیما پر مہینے کا لاکھوں روپے ٹیکس ادا کرنا پڑرہا ہے جس کے باعث متعدد مالکان کاروبار ختم کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

سینما کاروبار

یہ بھی پڑھیے

روح افزا جنوبی ایشیا میں رمضان کی روایت کیسے بنا؟

سینیما گھروں سے وابستہ فنکار بھی کام نہ ہونے کی وجہ سے معاشی مسائل سے دوچار ہیں۔ نامور فلم اسٹار اور پشتو ٹی وی ڈرامہ آرٹسٹ امان خان نے نیوز 360 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں پہلے ہی ثقافتی تقریبات نہ ہونے کے برابر تھیں لیکن کرونا نے تو سب کچھ ختم کرکے رکھ دیا ہے۔

امان خان نے بتایا کہ متعدد فنکار اس وقت کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پوری دنیا میں فنکاروں کوحکومت کی جانب سے مالی امداد یا قرضے فراہم کیے جاتے ہیں مگر پاکستان میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

امان خان نے حکومت سے فنکاروں کی مالی معاونت کی فراہمی کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اور ان کی طرح کے دیگر فنکار اس مشکل وقت میں معاشرے میں ایک بہتر زندگی گزار سکیں۔

متعلقہ تحاریر