کم کارڈیشین پر ملازمین کا استحصال کرنے کا مقدمہ دائر
باغبان کے مطابق کھانے کے وقفے سے متعلق کم کارڈیشین سے بات کی تو نوکری سے نکال دیا گیا۔
امریکا کی معروف ماڈل اور اداکارہ کم کارڈیشین پر ان کے سابق ملازمین نے استحصال کا مقدمہ دائر کردیا ہے۔ ملازمین کے مطابق سپر ماڈل دوران ملازمت نہ تو کھانا کھانے کا وقفہ دیتی تھیں اور نہ ہی وقت پر تنخواہ ادا کی جاتی تھی۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق عدالت میں کم کارڈیشین کے خلاف ان کے 7 سابق ملازمین نے مقدمہ دائر کیا ہے۔ یہ تمام ملازمین معروف ماڈل کے گھر میں بطور باغبان اور دیکھ بھال کرنے والے عملے میں شامل تھے۔
کم کارڈیشین کے سابق ملازمین نے الزام عائد کیا ہے کہ دوران ملازمت انہیں کبھی وقت پر تنخواہ ادا نہیں کی گئی اور نہ ہی کھانے کا وقفہ دیا جاتا تھا۔ اداکارہ کی جانب سے تنخواہوں کا ایک بڑا حصہ ٹیکس کے لیے کاٹ تو لیا جاتا تھا لیکن وہ ٹیکس حکومت کو کبھی نہیں دیا گیا۔
Kim Kardashian is being ‘sued by former employees over unpaid wages and no meal breaks’ https://t.co/PZNewoTypi
— The Independent (@Independent) May 25, 2021
یہ بھی پڑھیے
ہالی ووڈ فلم دی انٹرن کے بالی ووڈ ری میک کی تیاری
ملازمین کے مطابق ان سے اوور ٹائم کرایا جاتا تھا مگر اس کی رقم بھی کبھی نہیں دی گئی۔ کم کارڈیشین کے باغبان کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اوور ٹائم کی رقم اور کھانا کھانے کے لیے وقت دیے جانے سے متعلق کم کارڈیشین سے براہ راست بات کی تو انہوں نے فوراً ملازمت سے نکال دیا۔
دوسری جانب کم کارڈیشین کے وکیل نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ان ملازمین کو تیسرے فریق کے ذریعے ملازمت پر رکھا گیا تھا اور تنخواہ کے معاملات بھی اسی کے ذمے تھے۔ اداکارہ کا ملازمین سے نہ تو کبھی براہ راست رابطہ تھا اور نہ ہی انہوں نے خود کبھی ملازمین کو تخواہ ادا کی۔
فیشن انڈسٹری چاہے امریکا کی ہو یا پاکستان کی، ہر جگہ غریب ملازمین کا استحصال کیا جانا عام بات ہے۔ سال 2017 میں ملبوسات کے مشہور پاکستانی برانڈ کھاڈی کے خلاف ملازمین نے احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔
فیشن انڈسٹری کی معروف شخصیت فریحہ الطاف کے سابق ملازمین بھی اکثر ان کے خلاف اسی قسم کی شکایات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔









