سافٹ امیج کے فروغ کے لیے پبلک ڈپلومیسی کا استعمال
پاکستان کی ثقافت کو اجاگر کرنے پر کوک اسٹوڈیو کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
وزارت خارجہ نے پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور سافٹ امیج کو دنیا کے سامنے لانے پر کوک اسٹوڈیو کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کے نظم و ضبط اور شعر و ادب کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے پبلک ڈپلومیسی کا استعمال ایک بہترین عمل ہے۔
اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کی پبلک ڈپلومیسی ٹیم اور مشہور میوزک پروگرام کوک اسٹوڈیو کے اشتراک سے کلچرل ڈپلومیسی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزارت خارجہ کے افسران سمیت مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
What is greater than having Pakistan’s cultural heritage celebrated amongst foreign Ambasadors in Islamabad at the foreign office lawns?
I want you to be part of this event today, so post your favourite @cokestudio song here with the hashtag #SoundOfPakistan? pic.twitter.com/N84M3rVxSI
— Juggun Kazim (@JuggunKazim) July 8, 2021
تقریب میں کوک اسٹوڈیو کے 13 سالہ سفر پر لکھی گئی کتاب بیونڈ دی ویو ٹرانسنڈنگ باؤنڈریز کی رونمائی بھی کی گئی۔ تقریب میں ثقافتی سفارتکاری سمیت کوک اسٹوڈیو کے کردار اور اس کے سماجی اثرات پر بحث کی گئی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ کوک اسٹوڈیو نے پاکستان کی آواز کو دنیا تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
Live from the Ministry of Foreign Affairs for the launch of the #CokeStudioxMOFA coffee table book❗️#SoundofPakistan pic.twitter.com/U4RRz1pghX
— Foreign Minister’s Public Diplomacy 🇵🇰 (@FMPublicDiploPK) July 8, 2021
یہ بھی پڑھیے
انڈیا میں 2 چوٹی کے میگزینز کی وزیراعظم نریندرہ مودی پر تنقید
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کا سافٹ امیج دنیا بھر کے سامنے لانے کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظم و ضبط، شعر و ادب اور تحمل و برداشت کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے پبلک اور کلچرل ڈپلومیسی کا استعمال ایک مثبت اقدام ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کوکا کولا کے جنرل مینجر فہد اشرف نے کہا کہ کوک اسٹوڈیو کا مقصد دنیا بھر میں پاکستان کی ثقافت اور تاریخ کو اجاگرکرنا ہے۔ کوک اسٹوڈیو کے ذریعے نئی صلاحیتوں کو فروغ دیا جارہا ہے۔ تقریب کے اختتام پر قوال فرید ایاز اور ابو محمد کی جانب سے قوالی بھی پیش کی گئی جسے خوب سراہا گیا۔
History tells us that the subtle forces of cultural diplomacy have impact and can create understanding among peoples from different backgrounds. Futurists tell us that music will remain relevant in the language of negotiations. #SoundofPakistan pic.twitter.com/PO4xR4c9Ml
— Shah Mahmood Qureshi (@SMQureshiPTI) July 8, 2021
حکومت کی جانب سے ملک کے سافٹ امیج کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے میوزک انڈسٹری کا استعمال ایک بہترین ذریعہ ہوسکتا ہے، جس سے ہم اپنی ثقافت، تاریخ اور نظم و ضبط کو دنیا کے سامنے پیش کرسکتے ہیں۔









