عمر بھر ہجر کا غم جھیلنے والے پری زاد کو بالآخر محبت مل گئی

انسان رنگ روپ سے نہیں اپنے کردار سے پہچانا جاتا ہے،ڈرامے کا پیغام: عینی نے ملک کے معروف بزنس مین کا نام گوگل کرلیا ہوتا تو تکلیف سے بچ جاتی،ناقدین

عمر بھر ہجر کا غم جھیلنے والے پری زاد کو بالآخر محبت مل ہی گئی، ہاشم ندیم کے شاہکار ناول پر شہزاد کشمیری کی  ہدایت کاری میں بننے والا بے مثال  ڈرامہ سیریل پری زاد خوشگوار انداز میں اختتام کو پہنچ گیا۔آخری قسط میں پری زاد نے اپنی محبت عینی کو پالیا۔

یہ بھی پڑھیے

ڈرامہ سیریل پری زاد نے مقبولیت کے سارے ریکارڈز توڑ دئیے

حقیقی زندگی میں پری زاد کا روپ دھارنے والے کی سوشل میڈیا پر دھوم

ڈرامے کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ آخری قسط کے دونوں حصوں نے محض 14 گھنٹے میں  یوٹیوب  پر مجموعی طور پرایک کروڑ اٹھارہ لاکھ  ویوز حاصل کرلیے۔ ٹوئٹر پر پری زاد اور یمنیٰ زیدی کے ہیش ٹیگز آج بھی ٹرینڈ کررہے ہیں اور صارفین دل کھول کر ڈرامے کی تعریف کررہے   ہیں جبکہ ہم ٹی وی کے ٹوئٹر ہینڈل سے ڈرامے کو پسند کرنے پر ناظرین سے اظہار تشکر بھی کیا گیا ہے۔

ڈرامے میں پری زاد کا مرکزی کردار اداکار احمد علی اکبر نے نبھایا اور خوب نبھایا۔ یمنیٰ زیدی، نعمان اعجاز،عدیل افضل ،افتخار احمد ،عشنا شاہ،صبور علی نے بھی اپنے کرداروں کے ساتھ خوب انصاف کیا ہے ۔ پری زاد کے او ایس ٹی کو بھی خاصہ پسند کیا جارہا ہے۔

ہاشم ندیم کی شاندار کہانی سانولی رنگت  کےساتھ پیدا ہونےوالے پری زاد کے گر گھومتی ہے جو بچپن سے محرومیوں کا شکار رہنے کے باعث احساس کمتری میں مبتلا ہوجاتا ہے اور کبھی اظہار محبت نہیں کرپاتا۔لیکن پھر قسمت اپنی کایہ پلٹتی ہے اور  پری زاد کامزدور سے پی زیڈ میر بننے کاناقابل یقین  سفرشروع ہوتا ہے۔

شرمیلی طبیعت کا مالک پری زاد پڑھنے لکھنے کا شوقین ہوتا ہےجسے پہلی محبت اپنی شاگرد ناہیدسے ہوتی ہے لیکن وہ کسی اور کی ہوجاتی ہے،دوسری محبت اسے اپنے دوست کے مالک مکان کی بیٹی صائمہ(ببلی)  سے ہوتی ہے لیکن اس کے سر پرلڑکابننے کا جنون سوار ہوتا ہے اور وہ پری زاد کی محبت کو سمجھ نہیں پاتی۔

دوسری محبت کی ناکامی کے بعد حصول تعلیم کا شوق پری زاد کو  لاہور کی یونیورسٹی لے جاتا ہے جہاں وہ لبنیٰ کی  محبت میں گرفتارہوجاتا ہے ، لبنیٰ بھی پری زاد میں دلچسپی لیتی ہے مگر اس کی لالچی ماں اسے فروخت کردیتی ہے۔

تیسری محبت کی ناکامی پر پری زاد تعلیم چھوڑ چھاڑ کر واپس گاؤں کا رخ کرتا ہے اور ورکشاپ پر مزدوری شرو ع کردیتا ہے ۔یہاں سے پری زاد کی قسمت کروٹ لینا شروع کرتی ہے۔

ورکشاپ کا مالک اسےگاؤں سے شہر بھیجتا ہے جہاں پری زاد کو بزنس ٹائیکون سیٹھ بہروز کریم کے پاس ملازمت مل جاتی ہے، جہاں اپنی محنت کے بل بوتے پر وہ سیٹھ کے دل میں جگہ بناتا ہے اورجب سیٹھ بہروز اپنی نوجوان بیوی لیلیٰ (عروہ حسین) کو دھوکا دہی پر قتل کرتا ہے تو پری زاد اس کے قتل کا الزام اپنے سر لیکر جیل چلا جاتا ہے۔پیچھے میں سیٹھ بہروز اپنی تمام جائیداد اپنے وفادار ملازم پری زاد کے نام کرنے کے بعد خودکشی کرلیتا ہے اور یوں سانولی رنگت کا مالک پری زاد بزنس ٹائیکون پی زیڈ میر بن جاتا ہے۔

پری زاد کا  پی زیڈ میر بننے کے بعد گاڑی میں ریڈیو سنتے ہوئے میزبان قرۃ العین بخاری (عینی ) سے تعارف  ہوتا ہے جو پری زاد کی شاعری کی مداح ہوتی ہے۔عینی پری زاد سے ملنےاس کے دفتر آتی ہے  ۔ پری زاد  پر یہ راز کھلتا ہے کہ وہ بینائی سے محروم ہے تو اس کے دل میں  عینی کے لیے ہمدردی پیدا ہوجاتی ہے ۔اگلی ملاقات میں عینی پری زاد سے اس کا مجسمہ بنانے کی خواہش کا اظہار کرتی ہے اور پری زاد عینی کا دل رکھنے کیلیے ہاں کردیتا ہے۔

بینائی سے محروم عینی کا تیار کردہ مجسمہ پری زاد کے دل  کے تار چھیڑ دیتا ہے ۔ عینی بھی پری زاد کو پسند کرتی ہے تاہم احساس کمتری میں مبتلا پری زاد اس سے بھاگتا رہتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ عینی اپنے کزن شرجیل کو پسند کرتی ہے، محبت کو ترسا پی زیڈ میر ایک موقع پر اپنے خودساختہ رقیب شرجیل کو قتل  کروانے کا منصوبہ بھی بناتا ہے لیکن پھر اس کے اندر کا پری زاد جاگ جاتا ہے اور وہ اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹ کر عینی کی زندگی سے نکلنے کا فیصلہ کرلیتا ہے۔

عینی کی بینائی لوٹانے  کیلیے پری زاد اسے آپریشن کیلیے  امریکا بھجواتا ہے اور پیچھے میں اپنی تمام نشانیاں مٹاکر گوشہ نشینی اختیا رکرلیتا ہے اور کشمیر جاپہنچتا ہے۔ یہاں پری زاد کو اپنی زندگی کا اصل مقصد ملتا ہے اور غریب و نادار بچوں کی تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھاتا ہے اور  جب پری زاد  محبت کو چھوڑ کر  زندگی کا مقصد تلاش کرتا ہے تو محبت اسے تلاش کرتی خود اس کے پاس چلی آتی ہے۔

ہاشم ندیم نے اپنی کہانی کے ذریعے ناظرین کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ انسان رنگ روپ سے نہیں اپنے کردار سے پہچانا جاتا ہے۔ لیکن ناقدین نے ڈرامے میں کئی جھول بھی  تلاش کرلیے جس میں سب سے بڑا جھول یہ ہے کہ اس جدید دور میں بھی عینی نے  پری زاد کو تلاش کرنے کیلیے اتنے جتن کیوں کیے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ عینی نے ملک کے معروف بزنس مین  کا نام گوگل کرلیا ہوتا تو تکلیف سے بچ جاتی ۔

متعلقہ تحاریر