ہالی ووڈ اداکار کیون اسپیسی جنسی ہراسانی کے ایک مقدمے سے بری

آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار پر 1986 میں 14 سالہ لڑکے سے زیادتی کی کوشش کا الزام عائد کردی، مدعی اداکار انتھونی ریپ الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا، عدالت: اسٹیون اسپیسی کو برطانیہ میں بھی جنسی زیادتی کے 5 الزامات کا سامنا ہے، مقدمہ آئندہ برس میں شروع ہوگا

نیویارک کی ایک عدالت نے آسکر ایوارڈ یافتہ ہالی ووڈ اداکار کیون اسپیسی کے خلاف 14 سالہ لڑکے سے جنسی ہراسانی کا مقدمہ خارج کر دیا ۔

یہ مقدمہ انتھونی ریپ کی جانب سے درج کرایا گیا تھا جس  نے الزام عائد کیا تھا کہ 1986 میں جب وہ 14 سال کا تھا تو آسکر ایوارڈ یافتہ ادکار  نے  ایک پارٹی میں اسے نامناسب انداز میں چھوا تھا۔

ستمبر 2020میں یہ مقدمہ دائر کرنے والے انتھونی ریپ اب 50 برس ہوچکے ہیں اور خود بھی اداکار ہیں، انہوں نے کیون اسپیسی کیخلاف 40 ملین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

معروف امریکی کامیڈین پر جنسی ہراسانی کا الزام ثابت،لاکھوں ڈالر جرمانہ

بل کوسبی کی طرح ہاروی وینسٹائن بھی بری ہوں گے؟

آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار کیون اسپیسی نے اس مقدمے میں خود پر عائد کردہ الزامات کی تردید کی تھی البتہ انہیں برطانیہ میں جنسی زیادتی کے پانچ مزید  الزامات کا بھی سامنا ہےتاہم انہوں نے ان الزامات پر بھی خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔برطانیہ میں  اس مقدمے کی سماعت جون 2023 میں شروع ہونے والی ہے۔

جمعرات کونیویارک کے علاقے مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں تین ہفتے کے دیوانی مقدمے کی سماعت کے بعد ایک جیوری نے قرار دیا کہ انتھونی ریپ اپنے دعوے کو ثابت  کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

فریقین کے وکلا کے درمیان ایک گھنٹے سے زائد بحث جاری رہی جس کے بعد  جج  نے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ اسٹیون اسپیسی نے کمرہ عدالت سے نکلنے سے قبل اپنے وکلا کو گلے لگالیا۔

 قبل ازیں انتھونی ریپ نے الزام عائد کیا تھا کہ 1986 میں 26یا 27سالہ  اسٹیون اسپیسی  سے مین ہٹن میں واقع انکے فلیٹ پر ایک تقریب میں ملاقات ہوئی تھی۔ اکتوبر 2017 کے بزفیڈ کے ایک مضمون میں  انتھونی ریپ نے لکھا تھاکہ اسپیسی نے اسے اٹھایا، ایک بستر پر بٹھایا اور اس کے اوپر جزوی طور پر لیٹ گیا۔ انہوں نے لکھا کہ”میں جانتا تھا کہ وہ میرے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے“۔

متعلقہ تحاریر