عمر بھر استحصالی طبقے سے نبرد آزما ڈاکٹرمبارک علی بڑھاپے میں استحصال کا شکار
ڈاکٹر مبارک علی نے لاہور کے مشہور پبلشرز فکشن ہاؤس اور تاریخ پبلشر پر اپنے کتابوں کی رائلٹی کی رقم بند کرکے بلیک میل کرنے کا الزام عائد کردیا۔

عمربھر استحصالی طبقات کیخلاف آواز بلند کرنے والے ڈاکٹرمبارک علی اپنے بڑھاپے میں استحصال کا شکار ہوگئے۔
ڈاکٹر مبارک علی نے لاہور کے مشہور پبلشرز فکشن ہاؤس اور تاریخ پبلشر پر اپنے کتابوں کی رائلٹی کی رقم بند کرکے بلیک میل کرنے کا الزام عائد کردیا۔
یہ بھی پڑھیے
لیاری یونیورسٹی میں بھارتی فلم کی نمائش پر انکوائری کمیٹی تشکیل
تعلیم کیلیے خدمات پر زندگی اور دوربین ٹرسٹ کےلیے ایوارڈ
ڈاکٹر مبارک علی نے ٹوئٹر پر جاری وڈیو بیان میں کہا کہ”میں نے اپنی پوری زندگی نوجوانوں میں سیاسی شعور کی بیداری اور اپنے بنیادی حقوق کی پہچان کرانے کی جدوجہد میں صرف کی ہے، اس مقصد کیلیے میں نے 1982 میں سندھ یونیورسٹی میں تدریس کے دوران اپنے ہاتھ سے کتابیں لکھنا شروع کیں، نوجوان طالبعلم وہ کتابیں اپنے دوستوں کو دیا کرتے تھے“۔
محسن پاکستان ڈاکٹر مبارک علی صاحب کی آواز بنیں، کتنے کم طرف اور گھٹیا لوگ ہیں جو دوسروں کا حق کھاتے ہیں، سوشل میڈیا اپنی طاقت دکھائے، سب آواز اٹھائیں۔۔!!!pic.twitter.com/vfumjFSzBk
— Mughees Ali (@mugheesali81) May 5, 2023
انہوں نےکہاکہ”لاہور منتقل ہونے کےبعدپبلشرز نے میری کتابیں چھاپنا شروع کیں اور میرا آخری معاہدہ تاریخ پبلشرز یا فکشن ہاؤس کے ساتھ تھا“۔انہوں نے بتایا کہ”فکشن ہاؤس نے مجھ سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ ہر ماہ مجھے رائلٹی کی ایک رقم دیں گے جو ہر سال 10 فیصد اضافے کے ساتھ دی جائے گی“۔
انہوں نے بتایا کہ”اس وقت رائلٹی کی وہ رقم بڑھ کر 60 ہزار روپے ہوچکی تھی لیکن اچانک پبلشر ظہور احمد خان نے اس معاہدے کو ختم کردیا اور یہ اعلان کردیا کہ آئندہ سے وہ مجھے کوئی رائلٹی نہیں دیں گے“۔
انہوں نے بتایا کہ”پبلشر کوچاہیے کہ میرے کچھ مسودات، کچھ کتابیں اور میری جو کتابیں معاہدہ ختم ہونے سے پہلے چھپ چکی ہیں ، ان کی تفصیلات اوررائلٹی کی رقم فراہم کریں اور جو کتابیں آؤٹ آف اسٹاک ہوچکی ہیں ان کی تعداد سے بھی آگاہ کریں“۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ” پبلشر مجھے بلیک میل کررہا ہے اور جن مضامین اور کتابیں میں تحریرکروائی ہیں ، ان کی کمپوزنگ کی مد میں ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کررہا ہے“۔
انہوں نے کہاکہ”میرا مقدمہ سندھ اور پنجاب کے نوجوانوں کے سامنے ہے جو میری کتابیں پڑھتے ہیں، میں فکشن پبلشر پر اپنی کتابیں چھاپنے اور فروخت کرنے پر پابندی عائد کرچکا ہوں لہٰذا آئندہ ان سے میری کوئی کتاب نہ خریدیں“۔









