کراچی میں خطرناک جرثومے نیگلیریا نے ایک اور شخص کی جان لے لی

رپورٹ کے مطابق دماغ کو کھانے والا جرثومہ نیگلیریا ابھی تک سندھ میں تین افراد کی موت کا سبب بن چکا ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے حکام نے کہا ہے کہ دماغ کھانے والے نیگلیریا فولیری نے پیر کے روز کراچی میں ایک 19 سالہ شخص کی جان لے لی۔

محکمہ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ ظاہر شاہ نامی نوجوان کو 27 مئی کو بخار، سردرد اور قے کی شکایت کے ساتھ اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔

محکمہ صحت کے مطابق ظاہر شاہ محنت مزدوری کرتا تھا ، اتوار کے روز اس علاج کی غرض سے اسپتال لایا گیا تھا تاہم وہ دوران علاج انتقال کرگیا۔

یہ بھی پڑھیے 

جامعہ این ای ڈی میں گیمنگ اینڈ اینی میشن پروگرام کے آغاز کی منظوری

حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں 14 فیصد سے 20 فیصد تک اضافہ کر دیا

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا کہ نیگلیریا کو ختم کرنے کے لیے پانی میں کلورین کے استعمال کا مشورہ دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے پانی میں کلورین ڈالنے سے جرثومہ آسانی سے مر جاتا ہے ۔ اس لیے محکمہ صحت کے حکام نے صوبائی حکومت سے شہر کی پانی کی فراہمی میں فوری طور پر کلورین شامل کرنے کی درخواست کی ہے۔

محکمہ صحت کے ترجمان نے کہا، "اس کا بہترین علاج جرثومے کی پیدائش کو روکنا ہے ، اس کےلیے ضروری ہے کہ پانی فراہم کرنے والا ادارہ پانی میں کلورین کے استعمال کو یقینی بنائے ، اور لوگوں میں آگاہی مہم چلائے۔”

نیگلیریا سے بچاؤ کے لیے پی ایم اے کا مطالبہ پڑھیں

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے تمام شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو پانی فراہم کرنے والے ٹینکوں میں کلورین کی گولیاں ڈالیں جو نہانے اور پینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

اس بیماری کی علامات میں تیز بخار، قے، سر درد اور ذہنی توازن کا بگڑنا شامل ہے۔

سندھ میں رواں سال نیگلیریا فولیری سے تین اموات ہوچکی ہیں۔ پہلی قیوم آباد، کورنگی روڈ کی ایک 32 سالہ خاتون تھی۔ دوسرا شخص ضلع غربی کے عبداللہ آباد سرجانی ٹاؤن سے 45 سال کا شخص تھا۔ تیسرا زاہد نامی شخص جس کا تعلق صدر ٹاؤن سے تھا۔

یاد رہے کہ خطرناک جرثومے نیگلیریا سے 2021 میں سات اور 2022 میں شہر میں آٹھ اموات ہوئیں تھیں۔

متعلقہ تحاریر