بھوٹان میں کرونا پر کیسے قابو پایا گیا؟

صحافی نے سوشل میڈیا پر بھوٹان کے کرونا سے متعلق اقدامات کی تفصیل بتادی۔

گذشتہ برس سے لے کر اب تک کرونا نے دنیا بھر میں تباہی مچائی ہوئی ہے لیکن بھوٹان نے ہنگامی اقدامات کرکے وبا پر بہت جلد قابو پالیا ہے۔ بھوٹان سے تعلق رکھنے والے صحافی نے سوشل میڈیا پر کامیابی کی داستان بیان کردی۔

کوویڈ 19 وائرس دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی جانیں نگل گیا ہے۔ اب تک کروڑوں افراد وبا کا شکار ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ اس سنگین صورتحال کے برعکس بھوٹان نے کرونا پر بہت جلد قابو پالیا۔

بھوٹان میں گذشتہ برس سے لے کر اب تک صرف ایک ہزار 22 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 927 صحتیاب ہوگئے ہیں۔ 94 شہری بھی معمولی طور پر متاثر ہیں اور قرنطینہ میں ہیں۔ 7 لاکھ 78 ہزار 522 کی آبادی والے ملک میں وبا کے باعث صرف ایک شخص کی جان گئی۔

بھوٹان کے کرونا سے متعلق اعداد و شمار بلاشبہ حیران کن ہیں لیکن ان کے پیچھے ایک کامیاب حکمت عملی اور ہنگامی اقدامات موجود ہے۔ صحافی تینزنگ لامسانگ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھوٹان کی کرونا کو شکست دینے کی کہانی تفصیل سے بیان کردی۔

اخبار بھوٹانیز کے ایڈیٹر نے لکھا کہ بھوٹان نے وائرس کو غیر معمولی اہمیت دی۔ وبا کو شکست دینے کے لیے ایک اچھی حکومت ضروری ہے لیکن معاشرے کا تعاون بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ملک میں انتظامیہ اور لوگوں نے مل کر کیسز کی روک تھام کے لیے کام کیا۔ بھوٹان نے کووڈ سے متعلق لائحہ عمل بہت جلد مرتب کرلیا تھا۔ وبا کی شروعات میں ہی اسپتالوں میں طبی سامان ذخیرہ کرنا شروع کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کرونا کی وباء ماؤنٹ ایورسٹ تک پہنچ گئی

بھوٹانی صحافی کے مطابق لاک ڈاؤن اور پابندیاں اہم ہیں لیکن یہ اسی وقت کارآمد ہیں جب لوگوں کی معاشی حالت اس قدر مستحکم ہو کہ انہیں گھر سے باہر نکلنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے شہریوں کے گھروں میں ماہانہ راشن پہنچایا گیا۔

تینزنگ نے دیگر ممالک کو بھی بھوٹان کی طرح سرحدیں بند کرنے اور تجارت محدود کرنے کا مشورہ دیا۔ بھوٹان میں اندرون ملک سفری پابندیوں کے علاوہ سیاسی ، سماجی ، اور مذہبی اجتماعات پر بھی مکمل پابندی عائد تھی۔

ایڈیٹر کے مطابق بھوٹان میں ویکسین کی پہلی خوراک صرف 2 ہفتوں کے دوران 95 فیصد شہریوں کو لگائی گئی جوکہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ تینزنگ  کا کہنا ہے کہ ویکسین تو صرف ایک ہتھیار ہے جبکہ سماجی فاصلہ رکھنا اور ماسک پہننا وبا سے بچنے کے لازمی اقدامات ہیں۔

تینزنگ نے مشورہ دیا کہ کیسز بڑھنے کے بعد لاک ڈاؤن لگانا کسی بھی ملک کے لیے کارآمد نہیں لہٰذا لوگوں کے اس بیماری میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی علاقوں کو سیل کرنا بہتر ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک مرتبہ کیسز پر قابو پانے کے بعد خوشیاں منانے میں وقت ضائع کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ وائرس دوبارہ بھی آسکتا ہے اس لیے اگلی لہر کے لیے پہلے سے ہی کمر کسنا بہت ضروری ہے۔

متعلقہ تحاریر