ملالہ یوسفزئی سیلاب متاثرہ بچیوں کی جلد اسکول واپسی کی خواہشمند

مجھے امید ہے کہ قائدین ہنگامی امداد کی فراہمی جاری رکھیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ بچیاں جلد بحفاظت اسکول واپس جاسکیں، ملالہ یوسفزئی کا دورہ پاکستان کے اختتام پر بیان

بچیوں کی تعلیم کیلیے خدمات پر نوبل انعام حاصل کرنے والی ملالہ یوسفزئی نے سیلاب متاثرہ بچیوں کی جلد اسکولوں میں واپسی کی خواہش کا اظہار کردیا۔

ملالہ یوسفزئی نے رواں ہفتے پاکستان میں گزارےاپنے دو روز کی مصروفیات کی تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر شیئر کردی۔

یہ بھی پڑھیے

سوات میں اسکول وین پر حملے کے ایک دن بعد ملالہ یوسفزئی کراچی پہنچ گئیں

ملالہ یوسفزئی کا دادو کی تحصیل جوہی کا دورہ، سیلاب متاثرین سے ملاقاتیں

ملالہ یوسفزئی نے ملالہ فنڈ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی اپنی خبر کو ٹوئٹر ہینڈل پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ   میں اس ہفتے  موسم گرما کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہ علاقوں  کا دورہ کرنے کے لیے پاکستان  گئی تھی اور مجھے امید ہے کہ قائدین ہنگامی امداد کی فراہمی جاری رکھیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ بچیاں جلد بحفاظت اسکول واپس جاسکیں۔

ملالہ فنڈ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی خبر کے مطابق ملالہ فنڈ کے شریک بانی ملالہ یوسفزئی اور ضیا الدین یوسفزئی نے گزشتہ دو دن کے دران  پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیلاب  متاثرین، ماہرین تعلیم اور نوجوان خواتین سے ملاقات کی۔  اُن کے اس دورے کا مقصد لڑکیوں کی تعلیم کی موجودہ صورت حال کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنا، بڑھتے ہوئے انسانی بحران پر بین الاقوامی توجہ مرکوز کرنا اور ہنگامی امداد کے مطالبات میں اضافہ کرنا تھا۔

ملالہ نے دادو میں امدادی کیمپ کا دورہ کیا اور سیلاب سے متاثرہ خواتین، بچیوں اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے ملالہ کو اپنی مشکلات کے بارے میں بتایا  اور رہنماؤں کیلیے اپنے مطالبات بیان کیے۔ ایک 16 سال کی نوجوان خاتون سہیلہ نے کہا کہ ’میں سکول جانا چاہتی ہوں لیکن وہاں پانی بہت ہے۔ اگر پانی تھوڑا کم ہوتا تو میں اس کے اندر سے گزر کر چلی جاتی۔ اب ہم سن رہے ہیں کہ سیلاب کا پانی 5ماہ تک رہے گا‘۔

 سیلاب نے تقریباً 35لاکھ بچوں کی تعلیم میں خلل ڈالا ہےاور  صوبہ سندھ کے تقریباً آدھے سکولوں کو تباہ کر ڈالا ہے اور وہ اسکول جن کی عمارتیں اب تک قائم ہیں وہ تعلیمی مقاصد کے بجائے اب عارضی پناہ گاہوں یا رسپانس سنٹرز کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر