قیمتوں کے اضافے کے بعد پاکستان میں پیناڈول کی پیداوار بحال

کمپنی نے خام مال مہنگا ہونے کے بعد حکومت کیساتھ قیمتوں کے تنازع پر فورس میجور کے تحت 21 اکتوبر کوپاکستان میں پیناڈول کی پیداوا روک دی تھی۔

پاکستان میں درد اور بخار میں عام استعمال ہونے والی دوا پیناڈول کی قلت ختم ہونے کی امید پیدا ہوگئی۔

حکومت کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کے بعد دواساز کمپنی گلیکسو اسمتھ کلائن نے پیناڈول ٹیبلٹس،پیناڈول ایکسٹرا اور بچوں کیلیے استعمال ہونے والے پیناڈول سیرپ کی پیداوار بحال کردی۔

یہ بھی پڑھیے

’جی ایس کے‘ نے پاکستان میں’ غیرمنافع بخش‘ پینا ڈول کی پیداوار روک دی

کراچی میں کمپنی کے گودام پر چھاپہ، پینا ڈول کی ذخیرہ شدہ 4کروڑ 80لاکھ گولیاں برآمد

دوا ساز کمپنی کی جانب سے جمع کرائی گئی اسٹاک فائلنگ   کے مطابق پیناڈول کی 500 ایم جی کی  گولی کی قیمت ایک روپے 87 پیسے سے بڑھا کر2روپے 35 پیسے کر دی گئی ہے۔ پیناڈول ایکسٹرا کی 500 ایم جی کی گولی کی قیمت 2 روپے19 پیسے سے بڑھا کر 2 روپے 75 پیسے کر دی گئی ہے۔اسی طرح پیناڈول شربت کی قیمت104 روپے 80 پیسے سے بڑھا کر 117 روپے 60 پیسے کر دی گئی ہے۔

کمپنی نے اپنی اسٹاک فائلنگ میں پیداوار کی بحالی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ”اگرچہ قیمتوں پر نظرثانی کی منظوری پیراسیٹامول کے خام مال کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کی مکمل عکاسی نہیں کرتی  لیکن کمپنی حکومت کی شکر گزار ہے کہ وہ  نئی قیمتوں کے ساتھ بغیر نقصان کے دوائیں تیار کرنے کے قابل ہوگئی ہے اور پاکستان میں صارفین اور مریضوں کے وسیع تر مفاد میں دوا کی پیداوار دوبارہ شروع کر دی  گئی ہے۔

 واضح رہے کہ کمپنی نےفورس میجور (ایسی شرط جو کسی  معاہدے سے منسلک تمام فریقین کو غیر معمولی حالات میں ذمہ داری سے آزاد کرتی ہے)   کے تحت 21  اکتوبر کوپاکستان میں  پیناڈول کی  پیداوا روک دی تھی جس کے باعث  ملک بھر میں اس کی قلت پیدا ہو گئی تھی اور ڈینگی بخار کے مریض خاص طور پر پریشانی کا شکار تھے۔

متعلقہ تحاریر